معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 161190

میرے والد کا انتقال ۱۹۸۶ میں ہوا ہے ، میری ۲ والدہ ہیں ہم 4 بھائی اور 2 بہن ہیں، بھائی اور بہن کا اور والدہ کا حصہ کتنا بنے گا اور کب کی مالیت پہ بنے گا؟1986 یا آج کی؟کیا فرم کی پونجی میں بھی حصہ بنے گا؟

Published on: May 16, 2018

جواب # 161190

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1095-969/L=8/1439



صورتِ مسئولہ میں بعدادائے حقوقِ مقدمہ علی المیراث مرحوم کا تمام ترکہ ۸۰/حصوں میں منقسم ہوکر۵/۵/حصے مرحوم کی دونوں بیویوں میں سے ہرایک کو،۱۴/۱۴/حصے چاروں لڑکوں میں سے ہرایک کو اور ۷/۷/حصے دونوں لڑکیوں میں سے ہرایک کو ملیں گے ۔ترکہ میں جو چیز مرحوم نے چھوڑی ہو اصل میں اس کی تقسیم ہوگی اوراگر تقسیم میں تاخیرہوگئی اور ایسی صورت پیش آجائے کہ قیمت کے اعتبار سے تقسیم کی نوبت آجائے تو تقسیم کے وقت کی مالیت کا اعتبار ہوگا،نیز اگر فرم کی پونجی مرحوم نے لگائی تھی تو اس میں بھی تمام ورثاء کا حصہ ہوگا۔



مسئلے کی تخریجِ شرعی درج ذیل ہے:



بیوی = ۵



بیوی = ۵



لڑکا = ۱۴



لڑکا = ۱۴



لڑکا = ۱۴



لڑکا = ۱۴



لڑکی = ۷



لڑکی = ۷



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات