معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 161066

حضرت، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ اگر کسی کی دو بیویاں ہوں اور دونوں سے بچے ہوں لیکن پہلی سے زیادہ اور دوسری سے کم جیسے ایک آدمی کو پہلی بیوی سے تین لڑکے ہیں جو بڑے ہوگئے ہیں اور باپ کے ساتھ کماتے بھی ہیں جب کہ دوسری بیوی سے ایک لڑکا ہے، تو ۱۰۰/ روپیہ وراثت میں کیسے تقسیم ہوں گے؟ جب کہ پہلی بیوی کے بچوں نے بھی کمایا ہے لیکن باپ اصل مالک تھا، کیا کمانے والے بچوں کو زیادہ حصہ ملے گا؟ شرعی احکام اور ترتیب بتادیجئے تاکہ جھگڑا پیدا نہ ہو۔

Published on: May 10, 2018

جواب # 161066

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:885-747/N=8/1439



 صورت مسئولہ میں اگر کاروبار باپ کا تھا اور بیٹے کاروبار میں باپ کے صرف معاون تھے تو باپ کی وفات پر باپ کا سارا ترکہ تمام وارثین میں حسب شرع تقسیم ہوگا، باپ کا تعاون کرنے والے بیٹوں کو وراثت میں دیگر بیٹوں سے زیادہ حصہ نہیں دیا جائے گا؛ البتہ اگر باپ اپنی زندگی میں تعاون کرنے والے بیٹوں کو ان کی خدمت اور محنت کے صلہ میں ان کے حصے سے کچھ زیادہ دیدے تو اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں، باپ کو زندگی میں اس کا حق ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات