معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 160832

جناب ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ کا حل چاہتا ہوں برائے مہربانی قران و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں میں بیرون شہر کرائے کے گھر میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ مقیم ہوں نوکری کرتا ہوں آبائی گاوں میں والد صاحب جن کی عمر ۷۳ و دادی جو ۹۰ سال کی ہیں رہتے ہیں مرحوم دادا جان اپنی حیات میں ہی شعریت کے حساب سے سبھی کے حصے دے چکے ہین اب جو مکان ہے وہ میرے والد کے حصہ میں ہے دادا جان نے اس مکان کو والد کے نام کردیا تھا احتراما" والد صاحب نے اس مکان کے کاغذات دادی کے نام کر دئے ہیں میری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے تین بہنیں شادی شدہ ہیں اور میں یعنی والد صاحب کی کل چار اولادیں والد کی کل جائیداد ۱۰۰۰ اسکوائر فٹ کا یہی مکان ہے جس کے کس طرح سے حصے ہوں گے ،دوسری اصل جو سنگیں صورت حال یہ ہے کہ جب حصے ہوں گے تو ظاہر سی بات ہوگی کہ مکان بیچنا پڑیگا جو کسی بھی طرح سے والد صاحب کو منظور نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ میری حیات میں مکان کبھی نہیں بکے گا بلکہ ان کے بعد بھی نہیں۔ حالانکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ حصہ ہر حال میں دینا ہوگا ان کے حساب سے گھر کی موجودہ رقم کے حساب سے جتنی رقم بنتی ہے وہ میں بہنوں میں تقسیم کروں جیسا کہ انہوں نے ۳۰ سال پہلے اپنی بہنوں کے لئے کیا تھا اور وہ رقم قریبا" ۳۰-۳۵ لاکھ کے آس پاس ہوگی میری مالی حالت بے انتہا خراب ہے بہنوں کی تمام شادیوں میں تقریبا" ۸۰ فی صد رقم مجھے ہی قرض لیکر والد صاحب کو دینا پڑی تھی۳۰-۳۵ لاکھ کی رقم جٹانا میرے لئے اگلے ۱۲-۱۵ سالوں تک ممکن نہیں میں خود بھی یہ چاہتا ہوں کہ رقم بہنوں میں تقسہم ہو تاکہ آبائی گھر ہمارے پاس رہے ایسی حالت میں کیا صورت نکل سکتی ہے بتائے کیا مکان بیچ کر ہی حصے بہنوں کا حصہ دیا جائے یا ۱۲-۱۵ سال انتظار کیا جائے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کیونکہ ۱۲-۱۵ سال بعد ہماری عمریں بھی لگ بھگ ۵۰-۵۵ کی ہو جائیگی اور ہمیں اپنے بچوں کے بھی حصہ دینے ہوں گے دوسرے یہ بھی خیال دل میں ہے کہ جتنا دیری بہنوں کا حصہ دینے میں ہورہی ہے اتنی دیر وہ اپنے حق سے محروم ہیں کیونکہ سبھی بہنیوں کی بھی مالی حالت ٹھیک نہیں برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

Published on: May 7, 2018

جواب # 160832

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:870-775/N=8/1439



آدمی اپنی زندگی میں اپنی تمام املاک : زمین وجائداد اور مکان وغیرہ کا مالک ہوتا ہے، اس کی کسی ملکیت میں اولاد یا وفات پر ہونے والے کسی وارث کا کوئی حق وحصہ نہیں ہوتا؛ اس لیے صورت مسئولہ میں آپ کے والد صاحب کی حیات میں ان کے مکان وغیرہ میں آپ کا یا آپ کی بہنوں یا دادی کا شرعاً کوئی حق وحصہ نہیں ہے، والد صاحب کسی دوسرے کی شرکت کے بغیر تنہا مالک اپنے مکان وغیرہ کے مالک ہیں؛ اس لیے آپ کو ابھی والد صاحب کی حیات میں ان کے مکان کے سلسلہ میں کسی الجھن کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں، آپ نے آئندہ کے محض احتمالات اور امکانات کی بنیاد اپنے دماغ پر ضرورت سے زیادہ الجھن مسلط کررکھی ہے، آدمی کو ایسا نہیں چاہیے، نیز آدمی کے مالی حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، ممکن ہے کہ آپ کے مالی حالات آئندہ اللہ تعالی بہتر بنادیں؛ اس لیے اللہ تعالی پر توکل وبھروسہ کریں اور اپنے ذہن ودماغ سے مکان کی الجھن نکال دیں، جب یہ مکان والد صاحب کی وفات پر وراثت ہوگا تو آپ، سب وارثین کی باہمی رضامندی سے شریعت کے مطابق باہم تقسیم کرلیں۔اور آپ نے بہنوں کی شادی میں محض اپنی مرضی وخوشی سے قرض لے کر والد صاحب کا جو مالی تعاون کیا، یہ آپ نے نیک کام کیا ، آخرت میں آپ کو اس کا بہت اجر وثواب ملے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات