معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 159036

ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے تین لڑکے ، تین لڑکیاں اور اس کی بیوی ہے۔ ایک لڑکے کے علاوہ باقی سب کے نکاح ہو چکے ہیں۔ مرحوم نے صرف ایک مکان چھوڑا ہے۔ اب مرحوم کی بیوی یعنی بچوں کی ماں کا کہنا یہ ہے کہ وراثت کی تقسیم میرے مرنے کے بعد ہو، نہ کہ میری حیات میں۔ اب مکان کی تقسیم کیسے ہو؟ نیز مرحوم کی بیوی کا وراثت کی تقسیم کو اپنی موت کے ساتھ معلق کرنا درست ہے؟ حالانکہ بیٹیوں نے اپنے بھائیوں کو اس مکان میں رہنے کی غیر مشروط (ماں کے انتقال تک) وغیرہ جیسی شرط کے بغیر اجازت دے رکھی ہے۔ کیا اس مکان میں رہنے والے بھائی شرعی عدالت میں بہنوں کا حق دباکر رکھنے والے سمجھے جائیں گے؟ اور کیا انصاف والے دن (روز قیامت) جواب دہ ہونا نہیں پڑے گا؟ ماں کی تقسیم کیسے ہوگی؟
براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Mar 6, 2018

جواب # 159036

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 599-580/M=6/1439



میت کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ سے جن لوگوں کا حق متعلق ہوتا ہے ان کو دے کر جلد ذمہ فارغ کرلینا بہتر ہوتا ہے، اگر میت پر کسی کا قرض ہے تو اسے ترکہ سے ادا کردیا جائے اور اگر کوئی جائز وصیت کی ہے تو ائے نافذ کی جائے اور اگر قرض یا وصیت کچھ نہیں ہے تو جملہ ترکہ، تمام شرعی ورثہ میں حسب حصص تقسیم کردیا جائے، اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہو تو مضایقہ نہیں، صورت مسئولہ میں اگر کوئی عذر نہ ہو تو جلد تقسیم کرلینا بہتر ہے لیکن اگر ماں کہہ رہی ہے کہ میری موت تک تقسیم نہ کرو تو اگر تینوں لڑکے اور لڑکیاں بخوشی اس کو قبول کرلیں اور ماں کی وفات تک تقسیم ترکہ کو موٴخر کریں تو شرعاً حرج نہیں اور جب تک تقسیم نہ ہو تمام بھائی، بہنوں کی اجازت سے متروکہ مکان میں رہیں جب کہ بھائیوں کا بھی اس میں حصہ ہے اور بہنوں کو ان کا حصہ دینے کی نیت بھی ہے تو اس طور پر رہنے کو بہنوں کا حق دباکر رہنا نہیں کہلائے گا اور یہ قابل مواخذہ نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات