معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 158559

مخنث کو وراثت میں کونسا حصہ ملے گا؟ عورتوں کا یا مردوں کا ؟

Published on: Mar 1, 2018

جواب # 158559

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 590-105/SN=6/1439



جہاں تک ہوسکے ”مخنث“ کو بہ شمول وراثت سب احکام میں مرد یا عورت کی طرح شمار کریں گے، اگر اس میں مرد کی علامات ہوں مثلاً ڈاڑھی نکل آئے یا مرد کی پیشاب گاہ سے پیشاب کرے یا اس سے کسی عورت کو حمل رہ جائے تو اس کو مرد سمجھا جائے گا اور وراثت میں ایک مرد کا جو حصہ ہوتا ہے وہ ملے گا، اگر اس میں عورت کی علامات ہوں مثلاً وہ خود حاملہ ہوگئی یا پستان ظاہر ہوگئے یا حیض آنے لگے یا عورت کی پیشاب گاہ سے پیشاب کرتی ہو تو عورت سمجھی جائے گی، اگر دونوں مقاموں سے پیشاب کرتا ہو تو جس مقام سے پہلے پیشاب نکلے اس کا اعتبار ہوگا؛ ہاں جب دونوں حالتیں برابر ہوں اور حالت ایسی مشتبہ ہوجائے کہ کسی وجہ سے کسی طرح بھی مرد یا عورت ہونے کو ترجیح نہ دے سکیں تو اس کو ”خنثیٰ“ مشکل کہتے ہیں، وراثت میں اس کا حکم أسوأ الحالین ہے یعنی مرد یا عورت فرض کرنے سے جس تقدیر پر محروم رہے یا حصہ کم ملے اسی تقدیر کا اعتبار ہوگا۔ مثلاً کسی کا انتقال ہوا اس نے بیوی اور حقیقی بھائی کی دو اولادیں چھوڑی، ایک بیٹا اور ایک خنثیٰ مشکل، یہاں اگر خنثیٰ مشکل کو لڑکا مانا جائے تو وہ وارث ہوتا ہے اگر لڑکی فرض کیا جائے تو وہ محروم ہوتا ہے؛ کیونکہ بھتیجی ذوی الارحام میں سے ہے جو عصبہ (مثلاً بھتیجہ) کے ہوتے محروم ہوتے ہیں؛ لہٰذا یہاں خنثیٰ مشکل محروم ہوگا عملا بأسوأ الحالین، مثال یوں بنے گی:



زوجہ     ابن الاخ العینی    ولد الأخ العینی (خنثیٰ مشکل)



1        3        م



 



اسی طرح اگر کسی کا انتقال ہوا اس نے تین اولادیں چھوڑی، ایک بیٹا، ایک بیٹی اور ایک خنثیٰ مشکل، یہاں اگر خنثیٰ مشکل کو لڑکا فرض کیا جائے تو اس کو دو حصے ملتے ہیں، اگر لڑکی فرض کیا جائے تو ایک حصہ؛ لہٰذا یہاں لڑکی فرض کرکے ایک حصہ دیا جائے گا، عملاً بأسوأ الحالین۔ مثال یوں بنے گی:



ابن      بنت      (ولد) خنثی مشکل



2        1        1



تفصیل کے لیے دیکھیں: خنثیٰ مشکل کا بیان سراجی (ص: ۱۱۳، بشری) میں اور احسن الفتاوی (۹/۴۳۲، ط: کراچی سبق سیزدہم)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات