معاملات - وراثت ووصیت

pakistan

سوال # 158460

ایک صاحب کے پاس یتیم بچوں کا مال ہے وہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں اور اس مال میں سے ان پر خرچ بھی کر رہے ہیں جبکہ انکا خیال یہ ہے کہ اس طرح مسلسل خرچ کرنے سے ان بچوں کے بالغ ہونے سے پہلے پیسے ختم ہو جائیں گے ، اب وہ چاہتے ہیں کہ ان بچوں کے مال کا کاروبار کیا جائے تاکہ پیسے کچھ بڑھ جائیں حالانکہ کاروبار میں نفع یقینی نہیں ممکن ہے کہ موجودہ رقم ہی ضائع ہوجائے تو کیا ان صاحب کے لئے ان کے مال کا کاروبار کرنا جائز ہوگا اگر جائز ہوگا تو کیا مال ہلاک ہونے کی صورت میں یہ ضامن ہوں گے اور یہ بھی بتائیں کہ اگر وہ کاروبار کریں اور نفع ہو تو کیا وہ خود بھی نفع لے سکتے ہیں یا نہیں؟

Published on: Feb 12, 2018

جواب # 158460

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 532-499/M=5/1439



جس شخص کے پاس یتیم بچوں کا مال ہے وہ امین ہے اور بچوں کا مال امانت ہے امین (وصی) کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے مال کو معروف طریقے پر خرچ کرے، مقیم کے مال کو یتیم کے لیے نفع بخش تجارت میں لگانے کی اجازت ہے حدیث میں ہے: ․․․ ألا من ولي یتیمًا لہ مال فلیتجر فیہ ولا یترکہ حتی یأکلہ الصدقة (مشکاة) اگر وصی کی تعدّی کے بغیر رقم ضائع ہوجائے تو اس پر ضمان نہیں اور وصی (ولی) اگر محتاج وضرورت مند ہے تو اپنی محنت وسعی کے بقدر ان کے مال سے اجرت مثل لے سکتا ہے۔ ․․․ وجاز لو اتجر من مال الیتیم للیتیم (درمختار) للمتولي أجر مثل عملہ ․․․ وفي الشامي: وفي الاستحسان: یجوز أن یأکل بالمعروف إذا کان محتاجاً بقدر ما سعی (شامی)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات