معاملات - وراثت ووصیت

india

سوال # 158224

حضرت، میری نانی نے حیات ہی میں میرے بالغ ہونے سے پہلے مجھ کو ایک کھیت کا مالک بنا دیا تھا اور میری نانی کے وارثوں میں صرف ایک لڑکی مطلب میری والدہ تھیں ان کو بھی ایک کھیت کا مالک بنادیا تھا تو کیا اس طرح کی تقسیم صحیح ہے؟ اور کیا مجھے جو کھیت ملا ہے اس میں میری بہنوں کا بھی حصہ ہوگا میری نانی کے واسطے سے؟

Published on: Jan 24, 2018

جواب # 158224

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:452-409/M=5/1439



آپ کی نانی نے اپنی حیات میں جو ایک کھیت آپ کو دے کر مالک بنادیا تھا اور خود نانی اس کے مالکانہ تصرفات سے دستبردار ہوگئی تھی تو وہ کھیت تنہا آپ کی ملکیت ہوگیا، اس میں آپ کی بہنوں کا حصہ نہیں، اسی طرح جو ایک کھیت آپ کی والدہ کو دے کر مالک وقابض بنادیا تھا اور خود اس سے لاتعلق ہوگئی تھیں تو وہ کھیت آپ کی والدہ کی ملکیت ہوگیا اور اگر صرف زبانی یا کاغذی طور پر مالک بنانا ہوا تھا، والدہ کے قبضہ وملکیت میں نہیں دی تھی تو یہ ہبہ تام نہ ہوا، لہٰذا وہ کھیت نانی ہی کی ملکیت کہلائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات