معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 158065

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں ہم سب بھائی ساتھ ساتھ رہتے تھے ۔کھانا پینا وغیرہ بھی ساتھ تھا۔ الگ ہونے کے بعد میرے حصہ میں کچھ نہ آیا ۔میری ذاتی کمائی سے جو پلاٹ خریدا ہے ۔اس کا کچھ حصہ یا پورا بیوی کے نام کرنا چاہتا ہوں(تاکہ بوقت ضرورت بیوی بچوں کے کام آسکے ) محض اس خدشہ کے پیش نظر کہ دیگر متعلقین ظلم نہ کر بیٹھیں ۔کیا میں ایسا کرسکتا ہوں ؟

Published on: Jan 22, 2018

جواب # 158065

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:520-446/L=4/1439



اگر دیگر لوگ وارث ہورہے ہوں تو ان کو محروم کرنے کی غرض سے بیوی کو کل جائیداد ہبہ کردینا جائز نہیں حدیث شریف میں اس پر سخت وعید آئی ہے ۔عن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنة یوم القیامة رواہ ابن ماجہ، ورواہ البیہقي في شعب الإیمان عن أبي ہریرة رضي اللہ عنہ (مشکاة شریف: ص۲۶۶)اگر آپ کو یہ اندیشہ ہوکہ میرے متعلقین میرے مرنے کے بعد میری جائیداد کو ہڑپ کر جائیں گے توآپ ہر وارث کا جتنا حصہ ہوگا اتنے کی رجسٹرڈ وصیت کرجائیں،وصیت تو بیوی بچوں کے حق میں معتبر نہ ہوگی مگر یہ لوگ واورث ہونے کی حیثیت سے اپنے اپنے حصے کے مالک ہوجائیں گے اور اس وقت ان ورثاء کی ذمہ داری یہ ہوگی کہ حصہ کم وبیش ہونے کی صورت میں وصیت کو کالعدم کرکے شرعی اعتبارسے ترکے کی تقسیم کرلیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات