معاملات - وراثت ووصیت

Pakisten

سوال # 157616

وراثت کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
بھاٹی سلیمان عثمان منیع کا انتقال ہو گیا، مرحوم غیر شادی شدہ تھے ، مرحوم کے والداہ محترمہ کامرحوم سے پہلے انتقال ہو گیا ہے ، مرحوم کے والد محترم حیات ہیں، اور3 بھاٹی اور 3 بہن موجود ہے ، مرحوم کی وراثت کی تقسیم تفصیلات کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔ دسراایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر کل مال کا والد کا ہو نے کی سورت میں والد اپنی حیاتی میں مال کو اولاد میں تقسیم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اختلاف وطن کی وجہ سے بعد مین بہت مسائل ہوتاہے ۔
آپ سوال یہ ہے کہ حیاتی میں تقسیم ہو گی تو لڑکے کا 2 حصہ اور لڑ کا ایک حصہ ہوگا یا لرکا لرکی کا برابر ہو گا، آپ رہنمائی فرمائیں. اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے . آمین

Published on: Jan 9, 2018

جواب # 157616

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:342-301/M=4/1439



صورت مسئولہ میں مرحوم سلیمان عثمان منیع کا پورا ترکہ ان کے والد محترم کو مل جائے گا، والد صاحب کی موجودگی میں بھائی بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا، مسئلے کی تخریج



اب = 1



اخ = 3



اخت = 3



اگر والد صاحب اپنی حیات میں اپنا مال اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں اور زندگی میں باپ، اولاد کو جو کچھ دیتا ہے وہ عطیہ اور ہبہ ہوتا ہے وراثت کی تقسیم نہیں ہوتی اس لیے اولیٰ اور افضل یہ ہے کہ زندگی میں تمام اولاد کو خواہ مذکر ہو یا موٴنث برابر حصہ دیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات