معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 156989

حضرت، میرے والد اور میرے بڑے ابو دو بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ میرے دادا کی حیات میں ان کی ایک بیٹی یعنی میری ایک پھوپھی کا انتقال ہو گیا تھا، میرے دادا اور دادی کا بھی انتقال ہو چکا ہے، میرے دادا نے اپنی حیات میں ایک کھیت اور ایک گھر کو چھوڑ کر ساری پراپرٹی اپنے وارثوں میں تقسیم کردی تھی، صرف کھیت اور گھر کو انہوں نے نہیں تقسیم کیا تھا، کہا صحیح موقع آنے پر تقسیم کروں گا، مگر کچھ سالوں بعد میری دادی اور دادا دونوں کا ہی انتقال ہوگیا۔
میرے والد اور بڑے ابو نے کئی بار میٹنگ کی کہ گھر اور کھیت کو تقسیم کر لیا جائے مگر ہمیشہ ہی کسی نہ کسی آپسی رنجش کی وجہ سے تقسیم نہیں ہو پائی۔ اب میرے بڑے ابو اور بڑی امی دونوں ہی کا انتقال ہوگیا ہے۔ فی الحال اس وقت میرے ابو اور ان کی تین بہنیں حیات ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ میرے والد یہ کہہ رہے ہیں کہ بچے ہوئے کھیت اور گھر کی وَیلو نکالی جائے اور ان کو سات حصوں تقسیم کر لیا جائے۔ 2+2 حصہ بھائیوں کا اور 1+1+1 حصہ بہنوں کا۔ مگر میرے ابو کے جو لڑکے ہیں وہ کہہ رہے ہیں ہ وہ پھوپھیوں کو حصہ نہیں دیں گے کیونکہ ان کے والد کا اب انتقال ہو چکا ہے اور اب ان پر اپنی پھوپھیوں کو حصہ دینے کا کوئی معاملہ نہیں ہے، پوری پراپرٹی کا دو حصہ ہو جو دونوں بھائی لے لیں، تو میرے ابو نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے آپ حصہ مت دو میں اپنے حصے میں سے اپنی بہنوں کو دے دوں گا۔
اب آپ بتائیں کہ تقسیم کیسے ہونی چاہئے کیونکہ بڑے ابو کے لڑکے حصہ دیں گے نہیں اور اگر ابو اپنے حصے میں سے بہنوں کو دے رہے ہیں تو حصہ کس طرح تقسیم کریں گے؟

Published on: Dec 31, 2017

جواب # 156989

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:343-340/L=4/1439



صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد کی بات صحیح اور درست ہے ،والد کی جائیداد میں لڑکیوں کا بھی حصہ ہوتا ہے،اگر آپ کے دادا کی وفات کے وقت ان کے والدین اوردادی کی وفات ان کے والدین میں سے کوئی حیات نہ رہا ہو تو آپ کے والد نے اپنے والد کے ترکے کی جو تقسیم کی ہے وہ صحیح اور درست ہے،ترکے کی تقسیم اسی طریقے پر کی جائے گی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات