معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 156600

حضرت، میرے والد صاحب فوت ہو چکے ہیں، جب وہ فوت ہوئے تو ان کی والدہ زندہ تھیں اور والد فوت ہو چکے تھے۔ مرحوم (میرے والد) کی گاڑی تھی جسے ہم نے کرایہ پر دیا تھا 15000 پر، اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟
ہم چار بھائی اور ایک بہن اور میری والدہ (مرحوم کی بیوی) ہیں۔ مرحوم کی والدہ اب فوت ہو چکی ہیں (میری دادی) اور ان کے تین بیٹے (مرحوم کو ملاکر) اور ایک بیٹی ہے۔
نوٹ: مرحوم کی بیٹی (میری بہن) دست بردار ہوگئی ہے، اسے نہیں چاہئے۔

Published on: Dec 27, 2017

جواب # 156600

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:362-404/H=4/1439



بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث وصحت تفصیل ورثہ آپ کے والدِ مرحوم کی گاڑی اور اس سے حاصل شدہ کرایہ نیز اس کے علاوہ بھی تمام مالِ متروکہ ایک ہزار پانچ سو بارہ (1512)حصوں پر تقسیم کرکے



ایک سو نواسی (189)حصے مرحوم کی بیوی (آپ کی والدہ) کو



اور دو سو اڑتیس دو سو اڑتیس (238-238)حصے چاروں بیٹوں (آپ چاروں بھائیوں) کو



اور ایک سو انیس (119) حصے مرحوم کی بیٹی (آپ کی بہن) کو



اور بہتر بہتر (72-72)حصے مرحوم کے تینوں بھائیوں (آپ کے چچاوٴں) کو



اور چھتیس (36)حصے مرحوم کی بہن (آپ کی پھوپی) کو ملیں گے۔



(۲) آپ کی بہن جو اپنے حصہ سے دستبردار ہوگئی ہیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ شرعاً دستبردار ہونے سے اس کا حصہ ساقط نہ ہوگا اگر بہن نہ لینا چاہے تو اس کی شکل یہ ہے کہ اس کا حصہ نکال کر اس کے قبضہ میں دیدیں بعد قبضہ کے اپنی طرف سے وہ جس کو چاہے جتنا چاہے دیدے بعد قبضہ کے جب وہ کسی کو دیدے گی اور وہ (موہوب لہ) قبضہ کرلے گا تو اس کا حصہ ختم ہوجائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات