معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 156492

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں حج کو پیسے میں اضافہ کررہا ہے اور وہ مرجاتا ہے، جب اس نے کہا ہے کہ بچوں کو کیا کرنا ہے تو میری موت کے بعد میری لڑکی حج انجام دے گی، لیکن لڑکے اس کا حصہ بن رہے ہیں۔ اسلام کے مطابق کیا ہونا چاہیے۔

Published on: Dec 23, 2017

جواب # 156492

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:255-250/sn=4/1439



”میرے مرنے کے بعد میری لڑکی حج کرے گی“ سے اس شخص کا مقصد اگر یہ ہو کہ میری بیٹی میری طرف سے حج بدل کرے گی تو اس شخص کا یہ قول حج بدل کی وصیت شمار ہوگی، ایسی صورت میں ورثاء پر اس کی طرف سے حج بدل کرانا ضروری ہوگا بہ شرطے کہ اس کے تہائی ترکہ میں اس کی گنجائش ہو، خواہ بیٹی (جس کے بارے میں وفات پانے والے نے صراحت کردی ہے) سے کرائیں (یہی بہتر ہے) خواہ کسی اور شخص سے، اگر اس قول کا مقصد بیٹی کے حق میں وصیت کرنا تھا کہ یہ پیسے میری بیٹی کے ہیں وہ اس سے حج کرے گی تو چونکہ یہ بیٹی وارث ہے اور وارث کے حق میں کی گئی وصیت اس وقت نافذ ہوتی ہے جب دیگر ورثاء راضی ہوں؛ اس لیے اس صورت میں اگر دیگر ورثاء یہ رقم بیٹی کو دینے پر آمادہ نہ ہوں تو یہ رقم بھی وفات پانے والے شخص کا ”ترکہ“ بنے گی اور بیٹا، بیٹی سمیت تمام ورثاء کے درمیان دیگر ترکہ کی طرح حصہٴشرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگی۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات