معاملات - وراثت ووصیت

Saudi Arabia

سوال # 156020

حضرت، ہم تین بھائی اور سات بہنیں ہیں، میری سات بہنوں میں سے ایک کی شادی میرے والد صاحب کی کمائی سے ہوئی تھی پھر دو بہنوں کی شادی میرے بڑے بھائی کی کمائی سے ہوئی، پھر باقی چار بہنوں کی شادی میری کمائی سے ہوئی اور چھوٹے بھائی کی کمائی سے کسی بہن کی شادی میں کوئی خرچ نہیں آیا۔ ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے اور ہم تین بھائیوں نے جو بھی جائیداد ہمارے والد کی تھی آپسی رضامندی سے آپس میں تقسیم کرلی ہے اور اس پر بہنوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میرا سوال ہے:۔
(۱) جیسا کہ یہاں انڈیا میں جب بہن اپنے کسی بیٹے یا بیٹی کی شادی کرتی ہے تو بھائی اپنی بہن کو کچھ سامان وغیرہ اس کی لڑکی اور لڑکے کے جہیز میں دیتے ہیں جس کو ”بھات“ (BHAAT) کہتے ہیں، اگر میں اپنی بہنوں کو ان کا جو حق جائیداد میں بنتا ہے وہ دے دوں تو کیا پھر بھی مجھے ”بھات“ دینا پڑے گا یا نہیں؟
(۲) جیسا کہ میری سات بہنوں میں سے چار بہنوں کی شادی میری کمائی سے ہوئی ہے، اس صورت میں کیا مجھے ان چار بہنوں کو ان کا حصہ دینا پڑے گا یا نہیں؟ (جب کہ حصے کی رقم شادی میں خرچ ہونے والی رقم سے کم آرہی ہے)۔ شکریہ

Published on: Nov 22, 2017

جواب # 156020

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 207-183/SN=2/1439



(الف) والد صاحب کے ”ترکہ“ میں جس طرح آپ بھائیوں کا حق ہے اسی طرح آپ کی بہنوں کا بھی حق ہے؛ ترکہٴ والد کو آپ بھائیوں کا آپس میں تقسیم کرلینا اور بہنوں کو کچھ نہ دینا شرعاً جائز نہ تھا، بہنوں کے سکوت اختیار کرنے اور اعتراض نہ کرنے کی وجہ سے آپ بھائیوں کے لیے بہنوں کا حصہ بھی رکھ لینا جائز نہیں ہے؛ لہٰذا تمام بھائیوں پر ضروری ہے کہ جائیداد کی ازسرنو تقسیم کرکے شریعت کے مطابق بہنوں کا حصہ ان کے حوالے کریں، اگر آپ کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیاہے نیز آپ کے دادا، دادی کا انتقال آپ کے والد سے پہلے ہی ہو گیا تھا تو صورتِ مسئولہ میں والد مرحوم کا پورا ترکہ (زمین، مکان، پیسہ، واجب الوصول قرضے اور دیگر تمام اثاثے) بعد ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث کل ۱۳/ حصوں میں تقسیم ہوکر ۲-۲/ حصے آپ تینوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو اور ۱-۱/ حصہ آپ کی ساتوں بہنوں میں سے ہر ایک کو ملے گا، بہنیں اگر اپنے اپنے حصے پر قبضہ کرلینے کے بعد بھائیوں کو کل یا بعض حصہ لوٹادیں تو یہ ان کی مرضی کی بات ہے۔



(ب) آپ بھائیوں نے بہنوں کی شادی میں جو کچھ خرچ کیا ہے وہ آپ لوگوں کی طرف سے عطیہ اور تبرع شمار ہوگا، اس پر آپ لوگوں کو ان شاء اللہ اجر ملے گا؛ لیکن اس کی وجہ سے انہیں حقِ میراث نہ دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔



(ج) ”بھات“ کوئی شرعی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک غیر شرعی رسم ہے، بہنوں کی اولاد کی شادی کے موقع پر بھائیوں کی طرف سے کچھ دینا کسی درجے میں بھی شرعاً ضروری نہیں ہے، اگر بھائی لوگ از راہِ تعاون اور صلہ رحمی کچھ دینا چاہیں تو دیدیں اس پر انہیں اجر ملے گا؛ باقی اگر نہ دینا چاہیں تو شرعاً اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات