معاملات - وراثت ووصیت

india

سوال # 155346

میرے دادا نے ایک پلاٹ لیا ہے جو کہ ڈی ڈی ائے (D.D.A) سے کرایہ پر ہے، وہاں انہوں نے ایک کارخانہ بنایا، بعد میں ان کے بیٹوں نے وہاں ایک مہمان خانہ بنا دیا ہے جو کہ سب بیٹوں کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ ہمارے دادا کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، جن میں سے تین بیٹوں کا انتقال ہو گیا۔
سوال یہ ہے کہ جائیداد کی وراثت میں کرایہ کی جگہ بھی تقسیم ہوتی ہے؟

Published on: Nov 6, 2017

جواب # 155346

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:75-70/Sd=2/1439



کرایہ کی جگہ خواہ دوکان ہو یا مکان کرایہ دار کی ملکیت نہیں ہوتی ہے ، لہٰذا اگر کرایہ دار کا انتقال ہوجائے تو وہ کرایہ کی جگہ شرعا اس کی وراثت میں شامل نہیں ہوگی؛ البتہ اگر کرایہ دار کے انتقال کے بعد مالک کی طرف سے جائداد ورثاء کی طرف متنقل ہوجائے ، تو ایسی صورت میں کرایہ دار کے انتقال کے بعد جائداد شرعی ورثاء کے درمیان حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگی اور جائداد کا کرایہ ورثاء کے ذمہ لازم ہوگا؛ لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ کے دادا نے ڈی ڈی اے سے پلاٹ کرایہ پر لیا تھا اور اُن کے انتقال کے بعد ڈی ڈی اے کی طرف سے یہ پلاٹ ورثاء کی طرف منتقل ہوگیا، تو ایسی صورت میں دادا کے شرعی ورثاء کے درمیان یہ پلاٹ تقسیم ہوگا اوراگر ورثاء باہمی رضامندی سے کرایہ کی جائداد تقسیم نہ کریں اور سب کے حصے کے بقدر کرایہ کی آمدنی باہم متعین کر لی جائے ، تو اس میں بھی مضائقہ نہیں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات