معاملات - وراثت ووصیت

india

سوال # 154881

جناب مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ میری کوئی اولاد نہیں تھی شادی کے ۲۶/ سال بعد تک، پھر میں نے اپنے سالے کے بیٹے کو گود لیے لیا اپنی اولاد بناکر، اس کے لینے کے دو سال بعد اللہ نے مجھے ایک بیٹی دیدی، اس بیٹی کے بعد میری کوئی اور اولاد نہیں ہوئی، بس میرا ایک بیٹا گود لیا ہوا اور میری اپنی بیٹی، میرے دو بچے ہو گئے۔ ان دونوں کی شادی سے پہلے میں نے ایک وصیت کے تھی کچی۔
وصیت اس طرح ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں میں مالک اس کے بعد میری بیوی مالک۔ ہم دونوں کے بعد آدھا مکان میرے بیٹے کا او رآدھا میری بیٹی کا، جو میری بیٹی تھی اس کا انتقال ہو چکا ہے۔
اب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ جو میری بیٹی گزر چکی ہے، میرے مکان میں میری بیٹی کے بچوں کا حق بنتا ہے یا نہیں؟

Published on: Oct 10, 2017

جواب # 154881

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 24-23/D=1/1439



آدمی اپنی پہلے کی ہوئی وصیت کو بعد میں بدل سکتا ہے بلکہ بالکل ختم بھی کرسکتا ہے۔ نیز وصیت کی رُو سے متبنی بیٹے کو صرف کل جائیداد اور مملوکات کا ۳/۱ (ایک تہائی) ملے گا آدھا نہیں ملے گا کیونکہ آدمی ۳/۱ (ایک تہائی) سے زائد کی وصیت نہیں کرسکتا ہے۔



آپ کے انتقال کے بعد ورثا میں اگرآپ کے بھائی بھتیجے ہوئے خواہ دور کے رشتے کے تو آپ کے نواسوں کوکوئی وراثت نہیں ملے گی۔ آپ اگر نواسوں کے لیے وصیت کردیں تو پورے ۳/۱ (ایک تہائی) میں متبنی اور نواسے حصے دار ہو جائیں گے۔ اور آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ نواسوں کو جو کچھ دیا ہو ہر ایک کا حصہ متعین کرکے اپنی زندگی ہی میں بدست خود اس کے حوالے کردیں۔ اس بات کا آپ کو اپنی زندگی میں مکمل اختیار ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات