معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 154840

ایک شخص حسین احمد کا انتقال ہوگیا،ان کے ورثا میں ایک بہن رئیسہ خاتون، زوجہ نساء خاتون،سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، میت کے چار بھائی اور دو بہن اور تھیں ان کا بھی انتقال ہوچکا ہے ، صرف ایک بہن حیات ہیں، شرعی لحاظ سے میت کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی، بینوا توجروا ،جزاکم اللہ خیرا

Published on: Oct 15, 2017

جواب # 154840

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1449-1418/M=1/1439



اگر مرحوم حسین احمد کے ماں باپ حیات نہیں ہیں تو مرحوم کا ترکہ حقوق مقدمہ علی الارث کی ادائیگی کے بعد از روئے شرع ۱۴۴/ سہام میں منقسم ہوگا جن میں سے ۱۸/ سہام زوجہ (نساء خاتون) کو اور ۱۴، ۱۴/ حصے سات لڑکیوں میں سے ہرایک کو اور ۷،۷/ سہام چار لڑکیوں میں سے ہرایک کو ملیں گے اور بہن کو اس صورت میں ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا۔



زوجہ = ۱۸



۷/ بیٹے = ۹۸               ہرایک کو = ۱۴، ۱۴



۴/ بیٹیاں = ۲۸            ہرایک کو = ۷، ۷



بہن = x



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات