معاملات - وراثت ووصیت

india

سوال # 154827

کوئی اپنی زمین بندھک میں رکھ کر حج کو گیا اور وہیں اس کا انتقال ہو گیا، اس کی تین اولاد تھی ، ان میں سے دو صاحب مال تہے اور ایک غربت کی حالت میں تہا جو صاحب مال تہا ، انہوں نے تو پیسہ دیکر پوری زمین چہڑوالی اور آپس میں بٹوارہ کر لیا اور اور تیسرے بیتے کو کوئی حق نہیں دیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس زمین میں تیسرے بیٹے کا کوئی حق ہے یا نہیں؟

Published on: Oct 26, 2017

جواب # 154827

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1443-1434/M=2/1439



بندھک سے مراد اگر گروی رکھنا ہے تو وہ زمین چھڑالینے کے بعد تینوں بیٹوں کے درمیان بٹوارہ ہونا چاہیے تھا، پوری زمین دو بیٹوں نے آپس میں تقسیم کرلیا اور تیسرے بیٹے کو حصہ نہیں دیا یہ غلط کیا، کسی وارث کا حصہ ہڑپ کرلینا ظلم وغصب اور ناجائز ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات