معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 154622

والد صاحب کی چار جائیداد ہیں جن کی قیمت الگ الگ ہے ، جیسے ایک جائیداد کی قیمت ۸۵ لاکھ ہے، دوسری جائیداد کی قیمت ۴۵ لاکھ ہے، تیسری جائیداد کی قیمت ۲۰ لاکھ ہے، اور چوتھی کی قیمت ۲۵ لاکھ ہے۔
والد صاحب بیٹے بکر کو ایک اور دوسرے نمبر کی جائیداد رہے ہیں جن کی ٹوٹل قیمت 130لاکھ رہے، اور دوسرے بیٹے زید کو تیسرے اور چوتھے نمبر کی جائیداد دے رہے ہیں جن کی ٹوٹل قیمت 45لاکھ روپئے ہے۔ جب کہ چاروں جائیداد میں سے تین کو دوسرے بیٹے نے اپنی محنت اور مشقت سے بنائی ہے ، تاہم، شروع میں والد صاحب نے کچھ پیسہ لگایا تھا۔
براہ کرم، فتوی جاری کریں کہ کیا والد صاحب غیر مساوی طورپر اور نا انصافی سے اپنی جائیداد کو تقسیم کرنے میں صحیح ہیں یا غلط ؟

Published on: Oct 7, 2017

جواب # 154622

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1527-1500/L=1/1439



ہبہ میں اولاد کے درمیان میں مساوات (برابری) سے کام لینا مستحب ہے؛البتہ اگر کسی بیٹے کو اس کے دیندارہونے یا محتاج وغیرہ ہونے کی وجہ سے کچھ زائد دیدیں جبکہ اس سے مقصود دوسری اولاد کو نقصان پہونچانا نہ ہوتو اس حد تک گنجائش ہے؛لیکن دوبیٹوں کے درمیان تقسیم جائیداد میں اس قدر تفاوت سے کام لینا (جیساکہ سوال میں مذکور ہے )درست نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات