معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 154590

بعد سلام عرض ہے کہ مرحوم خالد نے دو شادیاں کیں جن کی پہلی بیوی سے ایک اولاد زید ہے ، زید کے پیدا ہونے کے کچھ عرصہ بعد ان کی والدہ محترمہ فوت ہو گئیں، پھر خالد نے دوسری شادی کی جن سے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں شاکرہ اور صالحہ اور اور زاہد عادل اور عابد اب خالد بھی کچھ دنوں بعد فوت ہو گئے ، لہذا ساری ذمہ داری بڑے بھائی زید پر آگئی، اب انہوں نے اپنی سوتیلی بیوہ ماں اور چھوٹے بھائی بہنوں کا پورا خیال رکھا اور دو بہنوں کی شادی بھی کروائی پھر ان میں بڑی بہن کا انتقال ہوگیا جن سے آٹھ اولادیں ہیں اور دوسری بہن سے فقط ایک اور خود زید کی چار اولادیں ہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں اب ان سب کے دادا خالد نے کچھ مالیت چھوڑی جس سے ایک زمین لی گئی ، اب وہاں کی کمپنی اس گھر کو منہدم کر اس کا عوض دینا چاہتی ہے ۔ اب یہ ملنے والا عوض کن میں کتنا تقسیم ہوگا؟ نوٹ....زید کی سوتیلی ماں یعنی کہ خالد کی دوسری بیوی باحیات ہیں اور جبکہ انکی بڑی بیٹی فوت ہو چکی ہیں، جواب بالتفصیل جلد از جلد ارسال فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔

Published on: Oct 22, 2017

جواب # 154590

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1402-1372/sn=1/1439



صورت مسئولہ میں کمپنی جو کچھ معاوضہ دے گی وہ اس طرح اگر خالد مرحوم کا کچھ اور ”ترکہ“ بھی ہو سب کے بعد ادائے حقوقِ متقدمہ علی الارث کل 480 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 67 حصے خالدکی بیوہ کو 84-84 حصے ان کے چاروں بیٹوں (زید، زاہد، عادل اور عابد) میں سے ہرایک کو، 42 حصے خالد کی باحیات بیٹی کو اور 35 حصے خالد کی وفات یافتہ بیٹی کی آٹھوں اولاد کو ملیں گے یعنی 35 حصے ان کے درمیان لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ کے اصول کے مطابق تقسیم ہوں گے۔ مذکورہ بالا لوگوں کے علاوہ دیگر افراد کو خالد مرحوم کے ”ترکہ“ میں سے کچھ نہ ملے گا۔



زوجہٴ خالد = 67



ابن = 84



ابن = 84



ابن = 84



ابن = 84



بنت = 42



اولاد بنت = 35



---------------------------



نوٹ: یہ تقسیم اس تقدیر پر ہے کہ خالد کی بیٹی (مرحومہ) کے شوہر کا انتقال اس سے پہلے ہی ہوگیا تھا نیز مرحومہ نے بیٹے اور بیٹیاں دونوں قسم کی اولاد چھوڑی ہے، اگر صورت حال مختلف ہو تو دوبارہ سوال بہ وضاحت کرلیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات