معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 154305

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس بارے میں کہ میرے والدحاجی سرفراز کا انتقال چند ہفتے بیشتر ہوا ہے ۔میرے والد نے اپنی تمام جائیداد (زرعی وسکنی)اپنی مرضی سے اپنی وفات سے لگ بھگ پندرہ سال قبل اپنی اولاد میں اپنی مرضی سے تقسیم کر لی اور ہمارے ایک بھائی اور والدہ کے نام پر کچھ بھی نہیں کیا۔ #اب ہمارے بھائی کا ہم تمام بہن بھائیوں سے والد کی جانب سے تفویض کی گئی جائیداد میں حصہ طلب کرنا شریعت محمدی کی رو سے کیسا ہے ۔حالانکہ اس جائیداد کے ہم تمام بھائی بہنیں کامل قابض ومالک ہیں ۔

Published on: Sep 25, 2017

جواب # 154305

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1275-1054/D=1/1439



والد مرحوم نے ایک بھائی اور والدہ کے لیے کوئی حصہ نہ لگاکر ان کی حق تلفی اور گناہ کا ارتکاب کیا۔



اگر والد مرحوم نے آپ دیگر بھائیوں کے لیے ہرایک کا حصہ زمین وغیرہ میں الگ الگ کرکے ہرایک کو قبضہ دخل دیدیا تھا تو جسے جو دیا گیا وہ اس کا مالک ہوگیا، جسے محروم کیا گیا اسے آپ لوگوں سے مانگنے کا حق نہیں، البتہ مرتے وقت والد کی ملکیت میں جو چیزیں تھی ان میں ان کی سب اولاد لڑکے لڑکیاں حصہ شرعی کے مطابق حق دار ہوں گے۔



نوٹ: اگر آپ لوگ بطور صلہ رحمی کے اپنے حصے میں سے اُن بھائی کو دیدیں تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں بلکہ بہتر ہے۔



نوٹ (۲): اگر والد مرحوم نے ناقابل تقسیم چیزوں میں حصہ لگاکر ہرایک کو مالک وقابض نہ بنایا ہو تو پھر حکم بدل جائے گا۔ ایسی صورت میں وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات