معاملات - وراثت ووصیت

USA

سوال # 154282

میرا سوال مرحوم کی وراثت سے متعلق ہے ۔ لواحقین میں بیوہ، ایک تین سالہ بیٹا، ماں، چھ بھائی ، دو شادی شدہ بہنیں شامل ہیں، مرحوم کا ایک بھائی کے ساتھ مشترکہ کاروبار تھا جس میں مرحوم اور مذکورہ بھائی برابر کے شراکت دار تھے ۔ مرحوم کے ذمہ کچھ ذاتی قرض بھی تھا جس کی مالیت لگ بھگ بیس لاکھ روپئے ہے ۔ اس کے علاوہ کاروبار میں شامل بھائی نے مرحوم کی رضامندی سے کاروباری رقم سے قریباً پچیس لاکھ روپئے مرحوم کے علاج میں صرف کئے تھے۔
سوال یہ ہے کہ درج بالا رشتہ داروں میں کون کون شرعی وراثت کا مستحق ہے ؟ جبکہ کوئی زبانی اور تحریری وصیت موجود نہیں؟
دوئم۔ وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟ کس کو کتنا شرعی حصہ دیا جائے ؟ شکریہ۔

Published on: Sep 25, 2017

جواب # 154282

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1424-1352/H=1/1439



بہ شرط صحتِ تفصیل ورثہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث مرحوم کا کل مال متروکہ چوبیس (24)حصوں پر تقسیم کرکے تین (3)حصے مرحوم کی بیوہ کو اور چار (4)حصے مرحوم کی ماں کو اور سترہ (17)حصے مرحوم کے بیٹے کو ملیں گے مرحوم کے بھائی بہن اِس صورت میں ترکہٴ مرحوم سے شرعاً محروم ہیں۔



بیوہ = ۳



ماں = ۴



بیٹا = ۱۷



بھائی = محروم



بہن = محروم



اگر مرحوم کی شرکت بھائی کے ساتھ آدھے آدھے کی تھی تو آدھے حصہ کی مرحوم کی ملکیت مرحوم کا ترکہ ہے، بقیہ آدھے کا مالک شرکت والا بھائی ہے، مرحوم کے ذمہ جو قرض ہے پہلے کل قرض کی ا دائیگی مرحوم کے تمام مال میں سے کی جائے گی، مشترکہ کاروبار میں سے علاج کی خاطر خرچ کرنے کے لیے اگر مرحوم نے کہہ دیا تھا تو وہ قرض ہی کے حکم میں ہے، کل قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچے گا وہ ورثہٴ شرعی پر علی قدر حصصہم تقسیم ہوگا جس کو اوپر لکھ دیا گیا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات