معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 151916

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص نے مرنے سے پہلے ہی اپنی پوری جائیداد مال مکان وغیرہ سب اپنے چار بیٹوں کے درمیان برابر تقسیم کر دیا اور پانچ بیٹیوں کو اندازہ سے پانچ پانچ ہزار روپے دے دئیے ، اب مرنے کے وقت اس کے پاس کچھ بھی پیسہ نہیں ہے ، تو اب پانچ بیٹیوں کو چار بیٹوں کے مکان میں سے حصہ ملے گا یا نہیں اور مرنے والے کا یہ عمل کیسا ہے کہ زندگی میں مال تقسیم کر دیا اور لڑکے لڑکیوں میں برابری نہیں کی؟

Published on: Jun 15, 2017

جواب # 151916

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 922-853/sd=9/1438



اگر مذکورہ شخص نے اپنی زندگی میں اپنی پوری جائداد چاروں بیٹوں کے درمیان تقسیم کر کے ہر ایک کو ہبہ کردہ حصہ کا مالک و قابض بھی بنا دیا تھا، تو چاروں بیٹے اپنے اپنے حصے کے مالک ہوگئے، اب مذکورہ شخص کے انتقال کے بعد بیٹوں کو ہبہ کی ہوئی جائداد میں بیٹیوں کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اگرچہ مرحوم کے لیے ایسا کرنا شریعت کی رو سے صحیح نہیں تھا، اگر اُس کو زندگی میں جائداد تقسیم کرنی تھی، تو بہتر یہ تھا کہ بیٹے اور بیٹیوں کو برابر برابر حصہ دیتا یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کے مقابلے میں آدھا حصہ دیتا، زندگی میں تقسیم جائداد کے وقت بیٹیوں کوبالکلیہ محروم کرنا یا بہت کم حصہ دینا مرحوم کے لیے جائز نہیں تھا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات