معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 149035

ایک شخص کی تقریبا 600 کنال زمین تھی۔ جس میں سے تقریبابہت سی زمین انھوں نے خود خریدی تھی جب کہ باقی زمین گورنمنٹ کی طرف سے الاٹ ہوئی تھی ۔ ان کے انتقال کے بعد دو بیٹوں کا کہنا یہ ہے کہ والد صاحب نے فرمایا تھا کہ جو زمین میں نے خریدی ہے اس میں تمہاری بہنوں کا حصہ نہیں ہے ۔ چناچہ ،ہم بہنوں کو اس میں حصہ نہیں دیں گے ۔ باقی بیٹے والد کی اس بات سے بے خبر ہیں۔ اب بہنوں کو صرف گورنمنٹ کے الاٹ ہوئی زمین سے حصہ دیا گیا ہے سوال یہ ہے کہ۱۔کیا شریعت کی رو سے ایسی تقسیم جائز ہے ؟
۲۔ بہنوں کا اپنا حق مانگنا یا نا مانگنا کیسا ہے ؟
۳۔جن بھائیوں نے حصہ نہیں دیا ان کے لئے کیا حکم ہے ؟

Published on: Mar 5, 2017

جواب # 149035

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 681-578/H=6/1438



(۱) اگر وہ زمین والد مرحوم نے خریدی اور وفات تک ان مرحوم کی ہی ملکیت میں رہی تو خواہ والد مرحوم نے کہہ بھی دیا تھا کہ اس زمین میں تمہاری بہنوں کا حصہ نہیں تب بھی والد مرحوم کا یہ قول شرعاً لغو ہے اس کہہ دینے کے باوجود بہنوں (مرحوم کی بیٹیوں) کو اس زمین سے ان کا حصہٴ شرعیہ ملے گا۔



(۲) مانگیں یا نہ مانگیں بہر صورت ان کا حصہٴ شرعیہ پورا پورا ان کے قبضہٴ تامہ میں دے دینا واجب ہے۔



(۳) وہ غاصب کے حکم میں ہیں اور سخت گنہگار ہیں ان کو چاہئے کہ پہلے فرصت میں بہنوں کے حق واجب کی ادائیگی کردیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات