معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 148581

سوال: میرے والد صاحب ۲۰۰۳ میں وفات پاگئے ۔ انہوں نے ترکہ میں ۵۰۰۰ مربع فٹ کا گھر چھوڑا تھا۔ گھر بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ہم بھائیوں نے سارا گھر گرا کر دوبارہ تعمیر کروایا البتہ بنیادیں وہی رہنے دیں۔ان کی وفات کے بعد ہم بھائیوں نے ۱۵۰،۰۰۰ روپئے ان کا لیا ہوا قرض واپس کیا۔ ہم نے اپنے سب سے چھوٹے بھائی کی تعلیم پر پانچ لاکھ روپئے اور دو بہنوں کی شادیوں پر چار لاکھ روپئے خرچ کئے ۔پہلا سوال ۔ کیا والد صاحب کے وفات کے بعد شرعی طور پر بھائی اور بہنوں کے اوپر کیے گئے خرچے کی ذمہ داری ہم بھائیوں کے اوپر آتی ہے یا یہ خرچہ والد صاحب کے ترکہ سے منہا کیا جائے گا؟
دوسرا سوال؛ میرے دادا میرے والد صاحب کی وفات کے ۹ سال بعد فوت ہوئے ہیں۔ اگر ہم آج ترکہ تقسیم کرتے ہیں۔ تو کیا ان کا حصہ بنتا ہے اور اگر بنتا ہے تو وہ حصہ کس کو دیاجائے گا جبکہ میرے سارے چچا، پھوپھیاں (۵ چچا اور ۳ پھوپھیاں) الگ الگ ہوچکے ہیں؟
تیسرا سوال ؛ ترکے کی قیمت کا تعین آج کی تاریخ میں ہوگا یا وفات کی تاریخ پر؟
چوتھا سوال؛ ترکہ ان ورثائمیں کس تناسب سے تقسیم ہوگا (ا) مرحوم کا باپ (۲) مرحوم کی بیوی (۳) مرحوم کے ۵ پانچ بیٹے (۴) مرحوم کی ۵ پانچ بیٹیاں

Published on: Feb 19, 2017

جواب # 148581

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 358-330/N=5/1438



 (۱):صورت مسئولہ میں والد صاحب کی وفات کے بعد بڑے بھائیوں نے اپنے چھوٹے بھائیوں اور بہنوں پر اپنی جیب سے جو کچھ خرچ کیا، اگر انہوں نے کسی معاہدہ کے بغیر خرچ کیا تو وہ ان کی طرف سے تبرع ہوگا، وہ اس کا عوض والد صاحب کے ترکہ سے یا خود ان بھائی بہنوں سے نہیں لے سکتے ؛ ویسے از روئے شرع بڑے بھائی بہنوں پر مالی اعتبار سے چھوٹے بھائی بہنوں کے خرچے صرفے کی ذمہ داری نہیں آتی ؛ بلکہ والد صاحب کے ترکہ سے ان کا جوحصہ ہو،تقسیم کے بعد اس سے یہ حضرات اپنی ضروریات پوری کریں گے ۔ باقی اگر بڑے بھائی اپنی مرضی وخوشی سے اپنی جیب سے چھوٹے بھائی بہنوں کی ضروریات کی تکمیل کریں تو اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں اور یہ ان کی جانب سے چھوٹے بھائی بہنوں پر احسان ہوگا۔



(۲): جی ہاں! جب آپ کے دادا مرحوم کا انتقال والد صاحب کے بعد ہوا تو والد صاحب کے ترکہ میں بہ حیثیت باپ ان کا بھی حق وحصہ ہوگا، جو ان کے شرعی وارثین ، یعنی: آپ کے چچا اور پھوپیوں کے درمیان تقسیم ہوگا اگرچہ چچا اور پھوپیاں سب الگ الگ ہوگئی ہیں؛ کیوں کہ وراثت کے باب میں ایک ساتھ رہنے یا الگ الگ ہوجانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔



(۳): ترکہ کی تقسیم میں بہ وقت تقسیم مالیت کا اعتبار ہوتا ہے، مورث کی وفات کے وقت ترکہ کی جو مالیت ہو، اس کا اعتبار نہیں ہوتا۔ اور تقسیم میں اصل یہ ہے کہ عین ترکہ تقسیم کیا جائے ؛ البتہ باہمی رضامندی قیمت کا لین دین بھی درست ہے۔



(۴): صورت مسئولہ میں اگر آپ کی دادی مرحومہ کا انتقال والد صاحب کی حیات ہی میں ہوگیا تھا تو آپ کے والد مرحوم کا سارا ترکہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ۴۶۸۰/ حصوں میں تقسیم ہوگا، جن میں سے مرحوم کی اہلیہ کو ۵۸۵/ حصے،مرحوم کے ہر بیٹے کو ۴۱۲/ حصے ، مرحوم کی ہر بیٹی کو ۲۲۱/ حصے، مرحوم کے ہر بھائی کو ۱۲۰/ حصے اور ہر بہن کو ۶۰/ حصے ملیں گے، تخریج مسئلہ حسب ذیل ہے:



 مرحوم کی بیوہ=             ۵۸۵



بیٹا             =             ۴۱۲



بیٹا             =             ۴۱۲



بیٹا             =             ۴۱۲



بیٹا             =             ۴۱۲



بیٹا             =             ۴۱۲



بیٹی            =             ۲۲۱



بیٹی            =             ۲۲۱



بیٹی            =             ۲۲۱



بیٹی            =             ۲۲۱



بیٹی            =             ۲۲۱



بھائی          =             ۱۲۰



بھائی          =             ۱۲۰



بھائی          =             ۱۲۰



بھائی          =             ۱۲۰



بھائی          =             ۱۲۰



 بہن           =             ۶۰



بہن           =             ۶۰



بہن           =             ۶۰



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات