معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 148046

کیا فرما تے ہیں مفتیان حضرات اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے 10 بچے تھے 5بیٹے 5بیٹیاں ان میں سے ایک بیٹا اور 2 بیٹیوں کی شادی نہیں ہوئی تھی باقی سب کی ہوگئی تھی، باپ کے انتقال کے بعد شادی شدہ بچوں کو وراثت میں حصہ ملے گا۔اب جب غیر شادی شداؤں کی شادی ہوئی اور وراثت کا معاملہ ہوا تو یہ باتیں ہوئی کہ ان کا حصہ ان کی شادی میں خرچ ہو گیا اور اب انکا حصہ نہیں ہے ۔مفتیان حضرات رہنما ء فرمائِیں کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ جزا ک اللہ خیرا۔

Published on: Jan 22, 2017

جواب # 148046

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 414-354/H=4/1438



غیرشادی شدہ ورثہ کے حصہ میں جو ترکہ بیٹھتا تھا اس کو ان ورثہ کی اجازت کے بغیر شادی میں خرچ کردینا جائز نہ تھا، پہلے وراثت تقسیم کرکے ہرایک وارث کو اس کا حصہٴ شرعیہ پورا پورا ان کے قبضہ میں دیدیا جاتا پھر ان کو اختیار ہوتا کہ وہ اپنے حصہ کو اپنی شادی میں خرچ کریں یا کچھ اور تصرف اس میں کرتے اب اگر ان کی رضامندی وخوش دلی کے بغیر خرچ کردیاگیا تو جن لوگوں نے خرچ کیا ہے وہ ضامن ہیں، ان کو چاہیے کہ اس خرچ کردہ مال کے بقدر مستحقین ورثہ کو اپنے پاس سے دیں، اگر آپس میں مصالحت کرکے معاملات کو نبٹالیں تو اس کی بھی گنجائش ہے، مقامی علمائے کرام اصحابِ فتوی حضرات میں سے ایک دو حضرات کو شامل کرکے مصالحت کی کارروائی انجام دیں تو بہتر ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات