معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 147852

ایک شخص اک چار منزلہ عمارت کا حصّہ دار ہے جوکہ اسے وراثت میں ملی ہے ۔ اسی عمارت میں وہ مقیم ہیں اور بقیہ کمروں کو کرایہ پر دیا گیا ہے ۔ اس شخص کی اہلیہ اور اسکا فرزند حیات ہے ۔ وہ شخص بھی بفضل خدا حیات ہے ۔ چونکہ اس کی اہلیہ اور اسکا فرزند اس کے ورثاء ہیں، تو کیا اس کی حیاتی میں وہ اس کی عمارت میں حق دار ہوں گے ؟ تو۱) کیا ورثاء کو جائیداد کے تعلق سے فیصلوں میں اپنی رائے دینے کا اختیار ہے اور فیصلہ سازی میں اختیار ہے ؟
۲) کیا جائیداد کا مالک ورثاء کے مرضی کے مخالف کوئی فیصلہ لے سکتا ہے ؟
۳) کیا ورثاء کرایہ داروں کے تعلق سے کچھ فیصلے لے سکتے ہیں؟
۴) اگر کوئی کرایہ دار کسی قسم کا کوئی کنیکشن لیتا ہے یا کمرے میں کوئی پھیر بدل کرتا ہے تو کیاورثائاسکو روکنے کے قابل ہیں؟
۵) کیا ورثاء کرایہ داروں کو کمرہ چھوڑنے کے لئیے کہہ سکتے ہیں؟
۶) اوآخر کیا ورثاء کو کچھ اختیار حاصل ہیں؟

Published on: Mar 13, 2017

جواب # 147852

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 386-478/sd=6/1438



(۱تا ۶) صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص اگر چار منزلہ عمارت کا مالک ہے، تو وہ اس عمارت کے تصرفات میں اپنی زندگی میں خود مختار ہے، وہ جیسا چاہے تصرف کر سکتا ہے، اُس کے ورثاء : اہلیہ اور بیٹے کا اس عمارت میں کوئی حق نہیں ہے، وراثت کا حق مورِث کے انتقال کے بعد ثابت ہوتا ہے، لہذا وہ ورثاء کی مرضی کے خلاف فیصلہ لے سکتا ہے، اُس کے ورثاء کو شرعا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ کرایہ داروں سے کسی بھی طرح کا مطالبہ کریں، ہاں اگر مذکورہ شخص اپنی طرف سے کسی وارث کو مکانات کی دیکھ بھال وغیرہ کا وکیل بنا دے اور کچھ اختیارات دیدے، تو اُس کے لیے اختیارات کی حد میں تصرف کرنے کا حق ہوگا ۔ یہ تو صورت مسئولہ کا شرعی حکم ہوا، باقی اخلاق اور اپنائیت کا تقاضہ یہ ہے کہ مذکورہ شخص اپنی جائداد میں کوئی بھی تصرف کرنے سے پہلے گھر والوں سے بھی رائے مشورہ کرے۔ واضح رہے کے کسی شخص کا اپنی جائداد میں ورثاء کو نقصان پہنچانے کی نیت سے، مثلا: وراثت سے محروم کرنے کی نیت سے تصرف کرنا، مثلا: کسی کو جائداد ہبہ کردینا ناجائز ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات