معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 147632

کیا فرماتے ہیں علمائے دین زید کا انتقال ہو گیا، زید کے چار لڑکے تین لڑکیاں ہیں، ایک لڑکے اور ایک لڑکی کی شادی زید کی زندگی میں ہو چکی ہے ، اب زید کے بچے کہتے ہیں کہ پہلے زید کے مال میں سے باقی تین لڑکوں اور دو لڑکیوں کی شادی کرنے کے بعد ورثہ تقسیم کریں گے ،کیا ورثہ تقسیم کرنے سے پہلے ورثے کے مال سے شادیاں کی جا سکتی ہیں؟

Published on: Jan 18, 2017

جواب # 147632

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 405-338/B=4/1438



باپ کے مرنے کے بعد باپ کی ملکیت کا کل ترکہ ورثہ کے استحقاق میں چلا جاتا ہے اس کی تقسیم کرکے اور ہرایک کا حصہ متعین کرکے ورثہ کو دیدینا ضروری ہے، تقسیم سے پہلے اسے شادی بیاہ کے اخراجات کے لیے روک رکھنا جائز نہیں۔ مرحوم کی کل مالیت ۱۱/ حصوں میں تقسیم کرکے ۲-۲حصے چاروں لڑکوں کو اور ایک ایک حصہ تینوں لڑکیوں کو دیدیا جائے، اس کے بعد اپنے بھائی بہن کی شادی کے لیے مل جل کر اتحاد باہمی کے ساتھ ہرایک کی شادی کا انتظام کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات