معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 147336

وراثت کی تقسیم کے حوالے سے کچھ سوالات کے جوابات مطلوب ہیں۔ہمارے ناناکی تین اولادیں تھیں۔ایک بیٹا اور دو بیٹیاں،نانا کا جب انتقال ہوا تو انہوں نے کسی بھی قسم کی وصیت نہیں کی نا ہی اپنی زندگی میں کسی بھی قسم کی تقسیم کی۔نانا کے انتقال کے وقت ان کے ماں باپ کا ان کے بچپن میں ہی انتقال ہوچکا تھا۔نانا کے انتقال کے بعد اُن کی تمام زمین و جائداد ان کے بیٹے کے پاس آگئی۔درمیانی بیٹی کی شادی ہوئی،شادی کے کچھ عرصے بعد طلاق ہوگئی،اور کچھ عرصے بعد ان کے سابقہ شوہر کا بھی انتقال ہوگیا ،ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔اب نانا کا بیٹا اور سب سے چھوٹی بیٹی کی شادیاں بھی ہوئی اور ان کے ہاں اولادیں بھی ہوئی ہیں۔چھوٹی بیٹی اپنے بھائی سے اپنے والد کی زمین و جائداد میں سے اپنا شرعی حق کا تقاضا کرتی رہی۔بھائی صاحب نے جب بہن کو فالج ہوا اور بہن کا آخری وقت قریب تھا ،تب تما م زمین و جائداد میں سے ایک مکان ایک کمرے کا اپنی بہن کو بیماری کی حالت میں دے دیا اور کہا کہ اس کے کاغذات بھجوادونگا یا خود لا کر دے دونگا۔یہ مکان بہن کے شوہر بہن کے بیٹے اور بہن کے جیٹھ کے سامنے زبانی دیا۔اور تمام اہل ِ محلہ بھی اس بات سے واقف ہے کہ بھائی نے مکان بہن کو دے دیا ہے ۔2007 میں بہن کا انتقال ہوگیا۔مکان کے کاغذات بہن کو دیے گئے نہ ہی بعد میں بہن کے بچوں کو۔2015 اپریل میں بھائی کا بھی انتقال ہوگیا۔اب تمام زمین و جائداد، کراچی کے کچھ مکان اور ہری پور ہزارہ کانانا کا مکان اور تمام کھیت کھلیان اور زمین،ان کی اولاد کے پاس ہے ۔
سوال یہ ہے ۔کیا نانا کی وراثت جو تقسیم نہیں کی گئی اس میں بھائی اپنی بہن کو ایک مکان دے کر باقی تمام خود رکھ سکتا ہے ؟نواسے اپنی ماں کی وصیت کے مطابق اپنی نانا کی وراثت میں اپنی ماں کا شرعی حق لے سکتے ہیں؟اور ماں کے مرنے کے بعد تقاضاکرسکتے ہیں؟کیوں کہ ماں کے ہوتے ہوئے بھی اور ماں کے مرنے کے بعد بھی تقسیم نہیں کی گئی۔ان مکانات کا کرایہ اور جو کچھ بھی زمینوں سے ملا وہ بھائی ہی نے وصول کیا۔نانا ،ماموں اور ان کے بعد ان کے بچوں نے تقسیم نہیں کی۔ماموں نے جو مکان گواہوں کے سامنے بہن کو زبانی دیا تھا بہن کو بیماری کی حالت میں ماموں کے مرنے کے اب تمام زمین و جائداد ان کے بچوں کے پاس ہے ۔اوروہ اب گواہوں کے سامنے دیا ہوا مکان بھی واپس لینا چاہ رہے ہیں۔کہ اصل کاغذات ان کے پاس ہے اور آپ سے بس زبانی بات ہوئی ہے ۔ایسی صورت ِ حال میں نواسے دین ِ اسلام کی رُو سے کیا کریں۔کیا شرعیت ِ اسلام اجازت دیتی ہے کہ نواسے مل بیٹھ کر اپنی ماں کا جائز حق لیں۔یا قانونی طریقے سے وراثت میں سے حصے لیں۔رہنمائی فرمائیں ایسی صورت ِ حال میں نواسے کیا کریں؟کہ کل حشر میں پکڑ کا باعث بھی نہ ہو اور تمام لوگوں کو ان کا شرعی حق بھی مل جائے ۔جواب عنایت فرمادیں۔

Published on: Feb 21, 2017

جواب # 147336

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 340-520/H=5/1438



نواسے نواسیاں اگر اپنی ماں مرحومہ کا حصہ جو نانا مرحوم کی طرف سے ماں مرحومہ کا بیٹھتا ہے پورا پورا وصول کرکے ماں مرحومہ کے تمام ورثہٴ شرعی پر علی قدر حصصہم تقسیم کریں اس کا ان کو پورا پورا حق شرعاً حاصل ہے، اور بہتر صورت یہ ہے کہ مرحوم ماموں کی اولاد سے کہیں کہ ایک استفتاء (سوال) ہم سب متفقہ طور پر لکھ کر دارالافتاء سے حکم شرعی معلوم کرلیں اور پھر موافق فتویٰ نانا مرحوم کی کل وراثت کو تقسیم کرکے ہروارث کو اس کا حصہٴ شرعیہ پورا پورا ادا کردیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات