معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 146900

ہمارے پاس ۳۰/ لاکھ کا ایک مکان ہے اور ۲/ ایکڑ کھیت ہے جس کی قیمت تقریباً ۳۰/ لاکھ روپیہ ہوگی، اور ایک بھائی اور چار بہنیں ہیں، بھائی مالی اعتبار سے بہت اچھے ہیں، بہنیں ساری غریب ہیں، بھائی کا اپنا ذاتی گھر ہے تو اسلامی شریعت کے حساب سے یہ ۶۰/ لاکھ کی پراپرٹی کیسے تقسیم کریں؟
آپ سے گذارش ہے کہ جلد از جلد مسئلہ کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں بتلائیں۔

Published on: Dec 22, 2016

جواب # 146900

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 199-176/N=3/1438



 



اگر ۳۰/ لاکھ روپے کا مکان اور ۲/ ایکڑ کھیت آپ کے والد صاحب،والدہ صاحبہ یا دونوں کا ترکہ ہے اور بہر صورت مرحوم ، مرحومہ یا مرحومین کے وارث صرف ایک بیٹا اور ۴/ بیٹیاں ہیں، مرحومین کے ماں باپ کا انتقال مرحومین کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا تو ترکہ کی تقسیم ۶/ حصوں میں ہوگی، جن میں سے ۲/ حصے بیٹے کو اور ایک، ایک حصہ چاروں بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو ملے گا، بھائی کے پاس ذاتی مکان وغیرہ ہونے کی وجہ سے اس کا حصہ وراثت نہ سوخت ہوگا اور نہ کم ہوگا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات