معاملات - وراثت ووصیت

pakistan

سوال # 146733

میرے والد کے انتقال کو ۱۶/ سال گذر گئے ہیں مگر میرے بہن بھائی والد کے چھوڑے ہوئے مکان کو شریعت کے اصولوں کے مطابق تقسیم نہیں کر پائے ہیں، ان کا موقف یہ ہے کہ ان کی مالی حالت ابھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ اس کو فروخت کریں اور وراثت کو تقسیم کریں لہٰذا جب تک ان کی مالی حالت قابل نہیں ہو جاتی وہ اس کو تقسیم نہیں کریں گے، کیا شریعت میں یہ عذر قابل قبول ہے؟ میں اپنا حصہ لے کے الگ ہونا چاہ رہا ہوں، مگر وہ یہ عذر دے کر خاموش ہو جاتے ہیں او ر اس اس کو تقسیم نہیں کر رہے ہیں؟ ان حالات میں کیا میں اپنا حصہ لینے کے لیے ان لوگوں پر کیس کرسکتا ہوں؟ کیا شریعت مجھ کو اپنا حصہ لینے کی پوری اجازت دیتی ہے؟ جب کہ اس مکان میں ایک یتیم کا بھی حصہ ہے جو کہ میرے مرحوم بھائی کا بیٹا ہے۔

Published on: Jan 8, 2017

جواب # 146733

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 369-361/M=4/1438



 



والد مرحوم کے متروکہ مکان میں آپ کا جس قدر حصہ نکلتا ہے اس کے مطالبے کا آپ کو پورا حق ہے آپ جب چاہیں اپنا حصہ لے سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کے بھائی بہن کی مالی حالت واقعی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اِس وقت تقسیم نہیں کرنا چاہ رہے ہیں تو آپ بھی مزید تھوڑا انتظار کرلیں اور ان کو کچھ مہلت دیدیں اور اگر وہ مالی حالت کا عذر کرکے تقسیم سے فرار اختیار کرنا چاہ رہے ہیں اور بلاوجہ ٹال مٹول کررہے ہیں تو آپ اپنا حصہ لینے کے لیے تقسیم کا مطالبہ کرسکتے ہیں، بہتر یہ ہے کہ تمام ورثہ خود سے کچھ مقامی سنجیدہ اور بااثر لوگوں کو بیٹھاکر آپس میں شرعی طور پر بٹوارہ کرلیں، کیس (مقدمہ) کرنا مناسب نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات