معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 146555

میرے بہائی کا پچھلے دنوں رضائے الٰہی سے انتقال ہوا ہے اس نے اپنے پیچھے مندرجہ ذیل زندہ وارثین چھوڑے ہیں۔ ایک بیوی ایک بیٹی ڈھائی ماہ کی ہے ، والد، بہن ،بھائی،آپ سے گذارش ہے کہ اس کے ورثے میں سے اوپر دیئے گئے وارثین کے شرعی حصے متعین کر کے بتائیں جس کے ذریعہ اس کی میراث کو تقسیم کیا جا سکے ۔

Published on: Nov 26, 2016

جواب # 146555

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 241-219/M=2/1438



 



صورت مسئولہ میں آپ کی والدہ اگر حیات نہیں تو مرحوم بھائی کا پورا ترکہ مملوکہ ۲۴/ سہام میں منقسم ہوگا جن میں سے ۱۲/ سہام بیٹی کو اور ۳/ سہام بیوی کو اور مابقیہ یعنی ۹/ سہام والد کو مل جائیں گے آپ (بھائی) بہن کو اس صورت میں ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا کیوں کہ والد صاحب حیات ہیں۔



مسئلہ کی تخریج کا نقشہ:



کل حصے   =       ۲۴



-------------------------



زوجہ     =       ۳



بنت      =       ۱۲



اب      =       ۴+۵



اخ        =       محروم



اخت      =       محروم



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات