معاملات - وراثت ووصیت

India

سوال # 146533

میرے والدین کی چار اولاد ہیں، دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ میرے والدین کا ایک فلیٹ ہے جس میں وہ اپنے ایک بیٹے اور اس کی فیملی کے ساتھ بیس سال سے رہتے ہیں، میرے والدین یہ فلیٹ اپنی مرضی سے اپنے ایک بیٹے کو دینا چاہتے ہیں، کیا وہ ایسا کر سکتے ہیں یا انہیں یہ فلیٹ اپنے چار بچوں میں بانٹنا ہوگا؟ اگر چار بچوں میں بانٹنا ہوگا تو کس کا حصہ کتنا ہوگا؟

Published on: Dec 1, 2016

جواب # 146533

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 251-231/M=2/1438



آپ کے والدین اپنا فلیٹ تنہا اس بیٹے کو دینا چاہتے ہیں جس کے ساتھ وہ بیس سال سے رہ رہے ہیں تو دے سکتے ہیں، مالک کو اپنی ملکیت میں ہر تصرف کا اختیار ہوتاہے لیکن دوسرے بیٹے بیٹیوں کو بھی اسی قدر حصہ دینا چاہئے اگر فلیٹ ایک ہی ہے اور اس کے علاوہ دوسری جائیداد نہیں ہے تو دوسری اولاد کو روپیہ وغیرہ دے کر برابری کردیں تاکہ عطیہ میں مساوات قائم رہے ساری جائیداد ایک بیٹے کو دے دینا اور بقیہ اولاد کو بالکلیہ محروم کر دینا گناہ اور ناانصافی ہے ہاں معقول وجوہ کی بنا پر کمی زیادتی میں مضایقہ نہیں مثلاً کسی بیٹے کو اس کی غربت یا خدمت کا خیال رکھتے ہوئے کچھ زائد حصہ دیدے اور بقیہ کو کچھ کم دیدے تو حرج نہیں، ایسا کرسکتے ہیں تاہم اولیٰ اور مستحب یہی ہے کہ زندگی میں تمام اولاد کو خواہ مذکر ہو یا موٴنث، برابر، برابر حصہ دے، یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ والدین اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کردینا چاہتے ہیں اور اگر والدین اپنی حیات میں تقسیم نہ کرنا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں، زندگی میں جائیداد کی تقسیم ماں باپ پر لازم و واجب نہیں، اور اولاد کو زبردستی مطالبہ تقسیم کا بھی حق نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات