معاملات - وراثت ووصیت

pakistan

سوال # 146455

تین بیٹے اور سات بیٹیاں ان میں سے ایک بڑا بیٹا انتقال کر گیا، مجھے یہ جاننا ہے کہ اس بیٹے کی اولاد کا میری جائداد میں حصہ ہے یا نہیں؟

Published on: Dec 8, 2016

جواب # 146455

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 223-172/D=3/1438



 



جس بیٹے کا آپ کے سامنے انتقال ہو چکا اس کی اولاد کو آپ کے انتقال کے بعد آپ کے ترکہ میں سے بطور وراثت کے حصہ نہیں ملے گا کیونکہ حقیقی بیٹے بیٹیاں موجود رہیں گے، البتہ آپ کو اپنی زندگی میں یہ اختیار حاصل ہے کہ مرحوم بیٹے کی اولاد کو ان کی ضرورت اور اپنی حیثیت کے مطابق زمین جائیداد میں سے ہبہ کردیں اگر پوتے پوتیاں نابالغ ہیں تو صرف زبانی یا تحریری ہبہ کرنا کافی ہے دوگواہ بنالیں تو بہتر ہے قبضہ الگ سے کرانا ضروری نہیں ہے اور اگر بالغ ہوں تو ہر ایک کو اس کا حصہ دے کر مالک و قابض بھی بنادیں۔ دوسرا اختیار آپ کو یہ حاصل ہے کہ اگر زندگی میں ہبہ نہ کریں اور مرنے کے بعد کے لیے وصیت کردیں جس قدر مناسب سمجھیں (بشرطیکہ آپ کی کل مملوکہ جائیداد کے 1/3 (تہائی حصہ) کے اندر ہو) یہ کہہ دیں یا لکھ دیں کہ میں ان بچوں کے لیے اتنی زمین یا فلاں زمین کی وصیت کرتا ہوں اس سے ان بچوں کو آپ کے انتقال کے بعد مل جائے گا۔



ہبہ یا وصیت میں سے کوئی عمل ان بچوں کے لیے کردینا بہتر ہے آپ کی مرضی اور اختیار کی بات ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات