معاملات - وراثت ووصیت

Saudi Arabia

سوال # 146162

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والد صاحب 24 نومبر 2000 کو وفات پاچکے ہیں۔ والد صاحب کی وراثت میں 3 پلاٹ ہیں۔ ان میں سے ایک پلاٹ پر گھر تعمیر ہے جو والد صاحب کی وفات کے وقت زیر تعمیر تھا۔ اس کی تعمیر پر والد صاحب کے 8 لاکھ روپے خرچ ہوئے ۔ والد صاحب کی وفات کے بعد دوسرے اور تیسرے نمبر والے بھائیوں نے گھر کی تعمیر مکمل کروائی جس پر 10 لاکھ روپے ان کی ذاتی آمدن سے خرچ ہوئے ۔ جس میں دوسرے نمبر والے بھائی کے 2 لاکھ روپے اور تیسرے نمبر والے بھائی کے 8 لاکھ روپے خرچ ہوئے ۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت ہماری والدہ حیات تھیں جنکی وفات 7 جنوری 2012 کو ہوئی۔ والد صاحب کی وفات کے وقت ان کے والدین اور دادا دادی میں سے کوئی حیات نہیں تھا۔ والد صاحب کی وفات کے بعد سب بہن بھائی اسی آبائی گھر میں رہے اور بہنوں کی شادیاں درج ذیل تواریخ کے مطابق ہوئیں اور وہ آبائی گھر سے رخصت ہو گئیں۔پہلی بہن۔ 8 فروری 2003ء دوسری بہن. 26 مارچ 2004،تیسری بہن۔ 8 اپریل 2010ئجبکہ پہلے نمبر والے بھائی نے آبائی گھر 20 اگست 2009 کو چھوڑ دیا اور دوسرے شہر بسلسلہ روزگار کرائے کے گھر میں منتقل ہو گئے ۔اس کے بعد سے اب تک بقیہ تینوں بھائی اس آبائی گھر سے استفادہ کر رہے ہیں۔اب ہم جائداد اس طور پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں کی چھوٹے تینوں بھائی مل کر وراثتی جگہ رکھ لیں اور باقی وارثان کو ان کے حصہ کی قیمت ادا کردیں۔سوال یہ ہیں کہ:-1
1۔ قیمت کا تعین موجودہ قیمت کے حساب سے ہوگا یا وراثت کی قیمت والد صاحب کی وفات کے وقت کی شمار ہوگی؟
2۔ قیمت کی تقسیم کیسے ہوگی؟ تقسیم کی مکمل تفصیل تحریر فرما دیں۔
3۔جو وارث اس گھر سے استفادہ کر رہے ہیں کیا انہیں باقی وارثوں کو کچھ قیمت کرایہ کی مد میں ادا کرنا ہوگی؟ اگر ہاں تو کس ترتیب سے ؟
4۔والدہ کا حصہ وراثت میں سے ہوگا؟ اگر ہاں تو اسکی رقم کا کیا کرنا ہوگا؟ جبکہ والدہ کی وفات کے وقت ان کے ایک بھائی حیات تھے جو کہ اب بھی حیات ہیں۔
5۔ گھر جس کی تعمیر کی کل لاگت 18 لاکھ روپے ہے جس میں سے 8 لاکھ والد صاحب کا باقی 2 لاکھ روپے دوسرے نمبر والے بھائی کا اور 8 لاکھ روپے تیسرے نمبر والے بھائی کا ہے اسکی تقسیم کہ کیا صورت ہوگی۔جواب عنایت فرما کر عند اللہ مأجور ہوں۔

Published on: Nov 28, 2016

جواب # 146162

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 115-097/N=2/1438



 



 (۱): اگر بڑا بھائی اور تینوں بہنیں سوال میں مذکور تقسیم پر راضی ہیں ، یعنی: چھوٹے تین بھائی ترکہ والا مکان رکھ لیں اور یہ تینوں دیگر وارثین کو ان کے حصے کی قیمت دیدیں تو شرعاً اس میں کچھ حرج نہیں، اور اس صورت میں مکان کی موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا ، والد صاحب کے انتقال کے وقت مکان کی جو قیمت تھی، اس کا اعتبار نہ ہوگا؛ البتہ دیگر وارثین یا ان میں سے بعض محض اپنی مرضی وخوشی سے اپنے حصے کی قیمت کچھ کم لینا چاہیں تو یہ ان کی مرضی ہے اور اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں۔



(۲): صورت مسئولہ میں اگر آپ کی والدہ کے انتقال کے وقت ان کے والدین یا دادا، دادی میں سے کوئی باحیات نہیں تھا تو والد صاحب کا متروکہ مکان یا اس کی قیمت ۱۱/ حصوں میں تقسیم ہوگی، جن میں سے ہر بھائی کو ۲، ۲/ حصے اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ ملے گا۔



(۳): اگر مکان میں رہائش پذیر بھائیوں سے دیگر وارثین نے کرایہ داری کا کوئی معاملہ نہیں کیا؛ بلکہ ان کی صراحتاً یا دلالتاً اجازت سے یہ تینوں اس میں رہ رہے ہیں تودیگر وارثین کو کرایہ کی مد میں کچھ دینا واجب نہیں، اور اگر یہ تینوں یا ان میں سے کوئی اپنی مرضی وخوشی سے کچھ دینا چاہیں تو اس میں شرعاً کچھ رکاوٹ نہیں۔



(۴): مرحومہ کے انتقال کے وقت ان کے بیٹے باحیات تھے؛ اس لیے مرحومہ کے بھائی کا مرحومہ کے ترکہ میں کوئی حصہ نہ ہوگا، اوراوپر مکان یا اس کی قیمت کی جو تقسیم تحریر کی گئی، اس میں والدہ کے حصہ کی تقسیم شرعی بھی آگئی ہے، الگ سے اس کی تقسیم ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔



(۵: والد صاحب کی وفات کے بعد جن دو بھائیوں نے اپنی ذاتی آمدنی سے مکان کی تعمیر کرائی، اگر انہوں نے دیگر وارثین سے اس سلسلہ میں کوئی معاہدہ کیا تھا تو اس کے مطابق حکم ہوگا، یعنی: اگر ان کے حصہ کا پیسہ بہ طور قرض لگایا تھا تو ہر ایک سے اپنا قرض وصول کرلیں، اور اگر ان کی جانب سے بہ طور تبرع لگایا تو یہ دونوں کی طرف دیگر وارثین پر تبرع واحسان ہوگا اور اگر دونوں نے دیگر وارثین سے کوئی معاہدہ نہیں کیا، محض اپنی مرضی سے لگادیا تو اس صورت میں بھی دونوں نے دیگر وارثین کے حصہ کا جو پیسہ لگایا وہ ان دونوں کی جانب سے ان پر تبرع واحسان ہوگا اور بہر صورت متروکہ مکان کی تعمیر مکمل کروانے کی وجہ سے کسی کے حصہ وراثت میں کوئی کمی زیادتی نہ ہوگی ؛ البتہ معاملہ قرض کی صورت میں دونوں کو دیگر وارثین سے اپنا قرضہ وصول کرنے کا حق ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات