معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 1015

عرض یہ ہے کہ پنجاب میں بہن اپنے باپ کی جائداد کا حصہ اپنے بھائی کو دیدیتی ہے ، تو کیا اس میں بہن کی اولاد کی حق تلفی نہیں ہوتی؟

Published on: Jul 14, 2007

جواب # 1015

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  407/م = 403/م)


 

بہن اپنے باپ کی موروثی جائداد سے متعینہ حصہ پانے اوراس پر قابض ہونے کے بعد وہ حصہ اپنے بھائی کو دے سکتی ہے، اس میں اولاد کی حق تلفی نہیں، اس لیے کہ آدمی کو اپنی ملکیت میں ہرطرح کے تصرف کا اختیار ہوتا ہے چاہے اس کو فروخت کردے، وقف کردے یا کسی کو ہبہ کردے وغیرہ۔ ہاں البتہ جب آدمی زندگی کی اس منزل کو پہنچ جائے جس میں ہوش و حواس صحیح نہ رہیں یعنی مرض وفات میں مبتلا ہوجائے تواب ورثہ کا حق اس کے مال سے متعلق ہوجاتا ہے اور آدمی کو اپنے کل مال کے بجائے صرف ایک تہائی مال میں تصرف کا اختیار باقی رہ جاتا ہے۔ اس موقع پر اختیار سے زائد تصرف کرنا درست نہیں ہوتا، تاہم صورت مسئولہ میں اپنے بھائی کو دینے سے زیادہ ثواب اپنی اولاد کو دینے اور ان پر خرچ کرنے میں ہے، مگر یہ کہ بھائی زیادہ محتاج و ضرورت مند ہو تو بھائی کو دینا چاہیے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات