متفرقات - تاریخ و سوانح

India

سوال # 153122

ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی وفات پر ایک جماعت نے نماز پڑھی اور ان کی عورت نے اس جماعت کے لیے ابوذر رضی اللہ عنہ کے کہنے پر کھانہ بنا کر کھلایا۔کیا یہ قصّہ صحیح ہے ؟برائے مہربانی مکمل صحیح بات بتائیں۔

Published on: Aug 2, 2017

جواب # 153122

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1108-1084/sd=11/1438



سیر کی کتابوں میں اتنی بات تو موجود ہے کہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ  کی وفات پر ایک جماعت نے اُن کی نمازجنازہ پڑھی، ایک روایت کے مطابق نماز جنازہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ ( سیر الصحابہ :۳۹۲/۲ ) عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ، ثَنَا مُجَاہِدٌ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ لِنَفَرٍ عِنْدَہُ: إِنَّہُ قَدْ حَضَرَنِی مَا تَرَوْنَ مِنَ الْمَوْتِ، وَلَوْ کَانَ لِی ثَوْبٌ یَسَعُنِی کَفَنًا أَوْ لِصَاحِبِی لَمْ أُکَفَّنْ إِلَّا فِی ذَلِکَ، وَإِنِّی أَنْشُدُکُمْ أَنْ لَا یُکَفِّنَنِی مِنْکُمْ رَجُلٌ کَانَ عَرِیفًا أَوْ نَقِیبًا أَوْ أَمِیرًا أَوْ بَرِیدًا ، وَکَانَ الْقَوْمُ أَشْرَافًا، کَانَ حُجْرٌ الْمِدْرِیُّ، وَمَالِکٌ الْأَشْتَرُ فِی نَفَرٍ فِیہِمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَکُلُّ الْقَوْمِ قَدْ أَصَابَ لِذَلِکَ مَنْزِلًا إِلَّا الْأَنْصَارِیَّ، فَقَالَ: أَنَا أُکَفِّنَکَ فِی رِدَائِی ہَذَا وَفِی ثَوْبَیْنَ فِی عَیْبَتِی مِنْ غَزْلِ أُمِّی، حَاکَتْہُمَا لِی حَتَّی أُحْرِمَ فِیہِمَا، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: کَفَانِی ۔ ( الستدرک علی الصحیحین للحاکم : رقم : ۵۴۵۲ ) لیکن اس کی صراحت ہمیں نہیں ملی کہ وفات کے بعد اُن کی اہلیہ نے نماز پڑھنے والوں کو کھانا بناکر کھلایا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات