متفرقات - تاریخ و سوانح

India

سوال # 150586

علامہ ابن تیمیہ کے بارے میں علمائے دیوبند کی کیا رائے ہے ؟ خدا کی ذات اور صفات کے بارے میں ان کا عقیدہ کیا صحیح تہا؟ کیا ان کا ماننا تہا کہ اللہ عرش کے اوپر ہے ؟ کیا انہو ں نے بہت سارے مسائل میں اجماع امت کی خلاف ورزی کی تہی؟ مہربانی کرکے ضرور جواب دیں۔

Published on: Jul 24, 2017

جواب # 150586

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 809-792/N=8/1438



(۱): علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے بعض اصولی وفروعی مسائل میں سخت چوک ہوئی ہے، اُن میں انہوں نے جمہور علماء کی روش سے ہٹ کر شذوذ وتفرد کی رائے اختیار کی ہے۔



(۲):اللہ رب العزت کی ذات وصفات کے مسئلہ میں بھی علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے غلو کا موقف اختیار کیا ہے، اس سے احتراز ضروری ہے۔



(۳): علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اللہ تعالی عرش پر ہونے کی جو تشریح کی ہے، وہ اہل السنة والجماعة کی تحقیق کے خلاف ہے۔



(۴): جی ہاں! انہوں نے متعدداصولی وفروعی مسائل میں اجماع امت کی مخالفت کی ہے۔



----------------------------------------------



 



Fatwa: 1028-999/sd=10/1438



علامہ ان تیمیہرحمه الله  ایک حنبلی المسلک عالم تھے ، لیکن عقائد و عبادات سے متعلق بہت سے مسائل میں اُنھوں نے جمہور سے علیحدگی کی تھی، جس پر بہت سے علماء، مثلا : علامہ ابن حجر عسقلانی، ابن حجر ہیتمی، علامہ تاج الدین سبکی، فقیہ ولی الدین العراقی اور تقی الدین سبکی وغیرہ نے سخت رد فرمایا ہے ۔



(۲) اللہ کی ذات و صفات کے بارے میں اُن کا عقیدہ صحیح نہیں تھا، عرش کے سلسلے میں بھی اُن کا نظریہ صحیح نہیں تھا، نیز بہت سے مسائل میں انھوں نے جمہور سے الگ مستقل رائے قائم کی تھی۔



قال ابن حجر الہیتمی : واعْلم أَنہ خَالف النَّاس فِی مسَائِل نبہ عَلَیْہَا التَّاج السُّبْکِیّ وَغَیرہ. فمما خرق فِیہِ الْإِجْمَاع قَوْلہ فِی: علیَّ الطَّلَاق أنَّہ لَا یَقع عَلَیْہِ بل عَلَیْہِ کَفَّارَة یَمِین، وَلم یقل بِالْکَفَّارَةِ أحد من الْمُسلمین قبلہ، وَأَن طَلَاق الْحَائِض لَا یَقع، وَکَذَا الطَّلَاق فِی طُہْر جَامع فِیہِ، وَأَن الصَّلَاة إِذا ترکت عمدا لَا یجب قَضَاوٴُہَا، وَأَن الْحَائِض یُبَاح لَہَا بِالطّوافِ بِالْبَیْتِ وَلَا کَفَّارَة عَلَیْہَا، وَأَن الطَّلَاق الثَّلَاث یُردُّ إِلَی وَاحِدَة، وَکَانَ ہُوَ قبل ادّعائہ ذَلِک نقل أجماع الْمُسلمین علی خِلَافہ، وَأَن المکوس حَلَال لمن أقطعہا، وَأَنَّہَا إِذا أخذت من التجَّار أجزأتہم عَن الزَّکَاة وَإِن لم تکن باسم الزَّکَاة وَلَا رسمہا، وَأَن الْمَائِعَات لَا تنجس بِمَوْت حَیَوَان فِیہَا کالفأرة، وَأَن الْجنب یصلی تطوّعہ بِاللَّیْلِ وَلَا یُوٴَخِّرہُ إِلَی أَن یغْتَسل قبل الْفجْر، وإنْ کَانَ بِالْبَلَدِ، وَأَن شَرط الْوَاقِف غیر مُعْتبَر، بل لَو وقف علی الشَّافِعِیَّة صرف إِلَی الْحَنَفِیَّة وَبِالْعَکْسِ، وعَلی الْقُضَاة صُرِف إِلَی الصُّوفِیَّة، فِی أَمْثَال ذَلِک من مسَائِل الْأُصُول مَسْأَلَة الْحسن والقُبْح الْتزم کل مَا یرد عَلَیْہَا، وَإِن مُخَالف الْإِجْمَاع لَا یکفر وَلَا یفسق، وَأَن رَبنَا سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یَقُول الظَّالِمُونَ والجاحدون علوّاً کَبِیرا مَحلُّ الْحَوَادِث تَعَالَی اللہ عَن ذَلِک وتقدس، وَأَنہ مْرکَّبٌ تفْتَقر ذَاتہ افتقار الْکل للجزء تَعَالَی اللہ عَن ذَلِک وتقدس، وَأَن الْقُرْآن مُحدث فِی ذَات اللہ تَعَالَی اللہ عَن ذَلِک، وَأَن الْعَالم قدیم بالنوع، وَلم یزل مَعَ اللہ مخلوقاً دَائِما فَجعلہ مُوجبا بِالذَّاتِ لَا فَاعِلا بِالِاخْتِیَارِ تَعَالَی اللہ عَن ذَلِک، وَقَولہ بالجِسْمِّیة والجہة والانتقال، وَأَنہ بقَدَر الْعَرْش لَا أصْغَرَ وَلَا أکبر تَعَالَی اللہ عَن ہَذَا الافتراء الشنیع الْقَبِیح، وَالْکفْر البراح الصَّرِیح، وخذل مُتَّبِعیہ وشتت شَمْل معتقدیہ، وَقَالَ: إِن النَّار تفنی، وَأَن الْأَنْبِیَاء غیر معصومین، وَأَن رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم لَا جاہ لَہُ وَلَا یتوسل بِہِ، وأنَّ إنْشَاء السّفر إِلَیْہِ بِسَبَب الزِّیَارَة مَعْصِیّة لَا تُقصر الصَّلَاة فِیہِ، وسیحرم ذَلِک یَوْم الْحَاجة ماسَّة إِلَی شَفَاعَتہ، وَأَن التَّوْرَاة وَالْإِنْجِیل لم تبدل ألفاظہما وَإِنَّمَا بدلت معانیہما اھ ( الفتاوی الحدیثیة :۸۵/۱، ط:دار الفکر، بیروت ) قال ابن حجر العسقلانی : وَمن ثمَّ نسب أَصْحَابہ إِلَی الغلو فِیہِ وَاقْتضی لَہُ ذَلِک الْعجب بِنَفسِہِ حَتَّی زہا علی أَبنَاء جنسہ واستشعر أَنہ مُجْتَہد فَصَارَ یرد علی صَغِیر الْعلمَاء وَکَبِیرہمْ قویہم وحدیثہم حَتَّی انْتہی إِلَی عمر فخطأہ فِی شَیْء فَبلغ الشَّیْخ إِبْرَاہِیم الرقی فَأنْکر عَلَیْہِ فَذہب إِلَیْہِ وَاعْتذر واستغفر وَقَالَ فِی حق عَلیّ أَخطَأ فِی سَبْعَة عشر شَیْئا ثمَّ خَالف فِیہَا نَص الْکتاب مِنْہَا اعْتِدَاد المتوفی عَنْہَا زَوجہَا أطول الْأَجَلیْنِ وَکَانَ لتعصبہ لمَذْہَب الْحَنَابِلَة یَقع فِی الأشاعرة حَتَّی أَنہ سبّ الْغَزالِیّ فَقَامَ عَلَیْہِ قوم کَادُوا یقتلونہ وَلما قدم غازان بجیوش التتر إِلَی الشَّام خرج إِلَیْہِ وَکَلمہ بِکَلَام قوی فہم بقتْلہ ثمَّ نجا واشتہر أمرہ من یَوْمئِذٍ وَاتفقَ الشَّیْخ نصر المنبجی کَانَ قد تقدم فِی الدولة لاعتقاد بیبرس الجاشنکیر فِیہِ فَبَلغہُ أَن ابْن تَیْمِیة یَقع فِی ابْن الْعَرَبِیّ لِأَنَّہُ کَانَ یعْتَقد أَنہ مُسْتَقِیم وَأَن الَّذِی ینْسب إِلَیْہِ من الِاتِّحَاد أَو الْإِلْحَاد من قُصُور فہم من یُنکر عَلَیْہِ فَأرْسل یُنکر عَلَیْہِ وَکتب إِلَیْہِ کتابا طَویلا وَنسبہ وَأَصْحَابہ إِلَی الِاتِّحَاد الَّذِی ہُوَ حَقِیقَة الْإِلْحَاد فَعظم ذَلِک عَلَیْہِم وأعانہ عَلَیْہِ قوم آخَرُونَ ضبطوا عَلَیْہِ کَلِمَات فِی العقائد مُغیرَة وَقعت مِنْہُ فِی مواعیدہ وفتاویہ فَذکرُوا أَنہ ذکر حَدِیث النُّزُول فَنزل عَن الْمِنْبَر دَرَجَتَیْنِ فَقَالَ کنزولی ہَذَا فنسب إِلَی التجسیم وردہ علی من توسل بِالنَّبِیِّ صلّی اللہ عَلَیْہِ وسلّم أَو اسْتَغَاثَ فأشخص من دمشق فِی رَمَضَان سنة خمس وَسَبْعمائة فَجری عَلَیْہِ مَا جری وَحبس مرَارًا فَأَقَامَ علی ذَلِک نَحْو أَربع سِنِین أَو أَکثر وَہُوَ مَعَ ذَلِک یشغل ویفتی إِلَی أَن اتّفق أَن الشَّیْخ نصرا قَامَ علی الشَّیْخ کریم الدّین الآملی شیخ خانقاہ سعید السُّعَدَاء فَأخْرجہُ من الخانقاہ وعَلی شمس الدّین الْجَزرِی فَأخْرجہُ من تدریس الشریفیة فَیُقَال أَن الآملی دخل الْخلْوَة بِمصْر أَرْبَعِینَ یَوْمًا فَلم یخرج حَتَّی زَالَت دولة بیبرس وخمل ذکر نصر وَأطلق ابْن تَیْمِیة إِلَی الشَّام وافترق النَّاس فِیہِ شیعًا فَمنہمْ من نسبہ إِلَی التجسیم لما ذکر فِی العقیدة الحمویة والواسطیة وَغَیرہمَا من ذَلِک کَقَوْلِہ أَن الْیَد والقدم والساق وَالْوَجْہ صِفَات حَقِیقِیَّة للہ وَأَنہ مستوٍ علی الْعَرْش بِذَاتِہِ فَقیل لَہُ یلْزم من ذَلِک التحیز والانقسام فَقَالَ أَنا لَا أسلم أَن التحیز والانقسام من خَواص الْأَجْسَام فألزم بِأَنَّہُ یَقُول بتحیز فِی ذَات اللہ ۔۔۔۔۔۔(الدرر الکامنة فی أعیان المائة الثامنة:۱۷۸/۱، ذکر من اسمہ احمد ، ط: مجلس دائرة المعارف العثمانیة - حیدر اباد/ الہند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات