متفرقات - تاریخ و سوانح

India

سوال # 149673

سوال نمبر 5581, فتوی نمبر 295=295/م, تاریخ جون 16, سنہ 2008, عنوان متفرقات تاریخ و سوانح۔
محترم حضرات اس فتوی کا خلاصہ یہ ہے کہ صحیح نام عبد الرحمان بن عییینہ الفزاری اسی کو کسی نے عبد الرحمان بن عبد القاری یا عبد الرحمان القاری کردیا ہے یہ دونوں الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی شخص ہے ۔اس میں اشکال یہ ہے کہ عبد الرحمان بن عیینہ الفزاری, عبد الرحمان بن عبد القاری, عبد الرحمان القاری یہ تین نام کے بارے میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تینوں نام ایک ہی شخص کا ہے لیکن تہذیب التہذیب اور سیر اعلام النبلاء اور دیگر کتابوں میں عبد الرحمان بن عبد القاری کے بارے میں صحابی یا تابعی کہا گیا ہے ۔آپ اس کو وضاحت فرمائیں۔

Published on: Apr 26, 2017

جواب # 149673

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 829-886/M=7/1438

(۱) جی ہاں! عبد الرحمن بن عبد القاری کے متعلق صحابی یا تابعی ہونے کی بات صحیح ہے، اور سابقہ فتوے میں تسامح ہوگیا ہے: عبد الرحمن بن عبد القاري ہو المدنی یقال: لہ صحبة، وإنما ولد في أیام النبوة، قال أبو داود: أتی بہ النبي -صلی اللہ علیہ وسلم- وہو صغیر․․․ وقال ابن سعد: توفي سنة ثمانین بالمدینة ولہ ثمان وسبعون سنة (سیر أعلام النبلاء: ۴/۱۴/۱۵، بیروت) وہو من جملة تابعي أہل المدینة وعلمائہم لم یختلف فیہ، بل کلہم اتفقوا علی أنہ تابعي (تہذیب التہذیب: ۲/۵۳۰، بیروت)

(۲) اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چراگاہ پر چھاپہ مارا تھا وہ عبدالرحمن بن عیینہ بن حصن فزاری تھا، عبدالرحمن بن عبد القاری نہیں تھے۔ اور حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عبد الرحمن بن عیینہ مارا گیا تھا۔ (سیرة المصطفی/ ۲/ ۳۵۱/ ۳۵۲، الامین دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات