متفرقات - تاریخ و سوانح

India

سوال # 146494

میرے دوست کا یہ کہنا ہے کہ طارق کے حوالے سے، ہلاکو اور چنگیز خان جب بغداد پر حملہ کیا، ساری کتابیں اس نے دریا میں بہادیں، یہاں تک کہ دریا کا رنگ نیلا ہوگیا، اور میرے دوست کے حساب سے ساری شریعت کے احکامات ختم ہوگئے، آج ہمارے پاس جو شریعت اور حدیث کا ذخیرہ ہے وہ سنی سنائی باتوں پر ہے، میں نے اس کو بتایا کہ قرآن اصل ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے لی، اور قیامت تک اس کو نہ کوئی مٹا سکتا اور نہ بدل سکتا ہے۔ برائے مہربانی یہ بتائیں کہ بعد میں جو شریعت لکھی گئی یا حدیث کی کتابیں لکھی گئیں وہ غلط ہے؟ کیا اُس وقت مکہ اور مدینہ میں کوئی بڑے امام اور بزرگ موجود تھے؟ کیا صرف دین کی کتابیں بغداد کے ہی لائبریری میں تھیں؟ اور کوئی لائبریری اس وقت نہیں تھی؟

Published on: Dec 21, 2016

جواب # 146494

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 180-163/Sd=3/1438



 



آپ کے دوست کی بات قطعاً غلط اور تاریخ سے جہالت پر مبنی ہے،شریعت اسلامی دنیا میں تنہا ایسا دین ہے، جو آج چودہ سو سال کے بعد بھی الحمد للہ اسی طرح محفوظ ہے، جیسا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں محفوظ تھا، اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ رب العزت نے لی ہے، قرآن کریم تو بعینہ اسی طرح محفوظ ہے، جیسا نازل ہوا تھا، ہاں احادیث میں اہل باطل نے تحریف و تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے؛ لیکن اللہ تعالی نے محدثین اور ائمہ جرح و تعدیل کی جماعت کو پیدا کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت احادیث کو بھی اصلی شکل میں محفوظ کر نے کا انتظام فرمادیا، پھر ابتدائی دور میں دین و شریعت سے متعلق جو کتابیں لکھی گئیں، اُس کے کئی کئی نسخے پوری دنیا میں پھیل گئے تھے،چنانچہ ابتدائی دور میں لکھی گئیں کتابوں کے نسخے آج بھی بغداد کے علاوہ کتنے کتب خانوں میں موجود ہیں، اس لیے کسی ایک کتب خانہ کی کتابوں کے ضائع ہوجانے سے یہ کہنا کہ پوی شریعت ہی ضائع ہوگئی، قطعا غلط اور بے بنیاد بات ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات