متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 270

میں مشت زنی کے متعلق ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ کیا اسلام میں مشت زنی جائز ہے؟ اگر ہاں، تو کن آیات و احادیث سے ثابت ہے؟ اگر نہیں تو کن آیات و احادیث کی رو سے منع ہے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور معیار، شرط ، ضابطہ یا ضرورت ہے جس کی بنیاد پر مشت زنی کی اجازت ہو؟

Published on: Apr 30, 2007

جواب # 270

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 379/ب=379/ب)


 


قرآن پا ک میں ہے وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَo اِلاَّ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ اس آیت کے تحت قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر مظہر ی میں لکھا ہے کہ آیت خود دلیل ہے مشت زنی کے حرام ہونے پر۔ پھر ابن جریج کا قول نقل کیا کہ انھوں نے حضرت عطاء سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مکروہ بتایا اور پھر فرمایا میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔ اور میرا خیال ہے کہ اس سے مراد یہی لوگ ہیں۔ اورحضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عذاب دیں گے جو اپنے ذَکر کے ساتھ کھیل کرتے تھے۔ ارو ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ناکح الید ملعون یعنی مشت زنی کرنے والا ملعون ہے۔ ہاں اگر کوئی زنا میں مبتلا ہوجانے کا قوی اندیشہ رکھتا ہے تو زنا سے بچنے کے لیے مشت زنی کرلے تو امید ہے کہ اس پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (ملاحظہ فرمائیں تفسیر مظہری، ج:5، ص:۳6۵) اور در مختار)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات