متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 1706

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیانِ شرع متین بیچ اس مسئلہ کے، کہ آج کل پھلوں کے باغات کی بیع کا عام رواج یہ ہے کہ باغات دو یا اس سے بھی زیادہ سالوں کے لیے پھل و پھول آنے سے پہلے ہی فروخت کردیے جاتے ہیں جو شرعاً بیع باطل کے حکم میں ہے۔ اب اگر باغ کا مالک ان مروجہ اوقات میں باغات کی فصل فروخت نہ کرے تو فصل آنے کے وقت باغ بکنے سے رہ جاتا ہے اور باغ کی دیکھ بھال اور حفاظت مناسب طور پر نہیں ہوسکتی؛ کیونکہ باغ کا مالک باغ کی حفاظت اور باغ کی تیاری پر قادر نہیں ہے وہ یہ کام کرہی نہیں سکتا، یہ سب کام باغ کی فصل خریدنے والا ہی کرتا ہے۔ اب اگر باغ کو مروجہ وقت پر نہ بیچے تو یہ حفاظت کا کام باغ کے مالک کو کرنا ہوگا اور اس کے اخراجات بھی مالک کے ذمہ ہوں گے، اس طرح اس کی آمدنی کم ہوگی۔ ایسی صورت میں باغوں کے فروخت کرنے کی جائز صورت کیا ہوگی۔ توضیح فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔

Published on: Sep 8, 2007

جواب # 1706

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 478/د=478/د


 


اگر باغ میں درمیان درمیان کچھ خلا ہو یا کہیں درخت نہیں ہے جس کی وجہ سے خلا ہوگیا کہ اس زمین میں سبزی ترکاری وغیرہ کی کاشت کی جاسکتی ہے تو اس طرح معاملہ کیا جاسکتا ہے کہ زمین دو تین سال کے لیے کاشت کے لیے دینے کا معاملہ کرلیں اور کرایہ اتنا مقرر کریں جس سے باغ کے پھلوں کی قیمت بھی نکل آئے اور معاملہ کرتے وقت یہ کہیں کہ یہ زمین تم کو کرایہ پر اتنے دنوں کے لیے دیتا ہوں تم اس زمین سے جو کچھ پیدا ہو اس کو پیدا کرو اور ہم کو اتنا کرایہ دیدیا کرو اور مدت مقررہ کے بعد ہماری زمین مع درختوں کے صحیح سالم واپس کردو۔ اس طرح معاملہ صحیح ہوجائے گا اور زمین لینے والے کو اختیار ہوگا کہ اس میں کسی چیز کی کاشت کرے یا نہ کرے، اور آپ کے لیے اس کا کرایہ لینا درست ہوگا۔ اور کرایہ دار کے لیے پھلوں کا لینا جائز ہوگا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات