متفرقات - حلال و حرام

Pakistan

سوال # 170362

میرا سوال حکومت پاکستان کے جاری کردہ ہیلتھ کارڈ کے متعلق ہے ۔ یہ حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے انشورنس کی ہے تاکہ بیماری کی صورت میں استعمال کی جا سکے ۔ کیا یہ ایک سود کی قسم نہیں ہے ؟ عوام کے لیے اس کا استعمال کیسا ہے ؟ سود ہونے کی صورت میں اس کا گناہ اور وبال کس پر ہے ؟ عوام جو استعمال کر رہے ہیں یا حکومت یا دونوں ؟ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور اگر کوئی مریض مجھ سے علاج یا آپریشن کرواتا ہے اور معاوضہ اس کارڈ یا ہیلتھ انشورنس سے دینا چاہے تو اس کا لینا میرے لیئے کیسا ہے ؟ حلال یا حرام؟ آیا یہ تعاون علی الاثم کے زمرہ میں تو نہ شمار ہو گا؟ برائے مہربانی تفصیل سے رہنمائی فرمائیے ۔ جزاک اللہ

Published on: May 13, 2019

جواب # 170362

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 906-749/B=09/1440



ہیلتھ کارڈ جو انشورنس برائے علاج کیا جاتا ہے یہ ایک قسم کا جوا (قمار) ہے اور قمار کو اللہ نے قران پاک میں قطعی حرام فرمایا ہے۔ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ الخ اس لئے مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہئے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات