متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 165599

امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ میرا نام عبداللہ ہے میں جرمنی ، بریمن میں رہتاہوں۔ یہاں مجھے کھانے کی چیزوں میں کچھ زیادہ مسئلہ درپیش ہے ۔ مسئلہ جلاتین کا ہے یہاں بہت سے کھانوں کی مصنوعات میں جلاٹین استعمال ہوتی ہے لیکن سب لوگ یہاں کہتے ہیں کہ حرام ہے بہت سے کہتے ہیں کہ حلال ہے ،لیکن یہ عوام کی رائے ہے اس معاملہ میں مجھے آپ کے رہنمائی چاہیے کہ یہ چیز حلال ہے یا حرام یا کہ یہ چیز مکروہ کے زمرہ میں آتی ہے ۔ یہاں پر جلاتین دو مختلف چیزوں سے بنتی ہے ایک جانوروں کی چربی سے دوسرے پودوں کی رطوبت/گوند سے لیکن کہیں لکھا نہیں ہوتا ہے یہ جانوروں کی چربی سے بنی ہے یا پودوں کی رطوبت/ گوند سے بنی ہے تو آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے بہت شدت سے۔ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔

Published on: Sep 13, 2018

جواب # 165599

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1128-946/SN=12/1439



جو جلاٹین پودوں کی رطوبت وغیرہ سے تیار کردہ ہو اس کا کھانا تو بلاشبہ جائز ہے، اسی طرح جو جلاٹین حلال مذبوحہ جانور کی چربی وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے وہ بھی حلال ہے؛ البتہ جو جلاٹین حرام یا غیر مذبوحہ جانور کی چربی اور ہڈی وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں تحقیق ضروری ہے کہ آیا جلاٹین تیار ہو چکنے کے بعد چربی وغیرہ کی سابقہ حقیقت بدل جاتی ہے یعنی انقلاب ماہیت ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں لکھی گئی اہل علم کی تحریریں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک جلاٹین بنانے کے لئے اصل شیء کو جن مراحل سے گزارا جاتا ہے ان سے گزرنے کے بعد اس شیء کی اصل حقیقت بدل جاتی ہے اور چونکہ ناپاک چیز کی حقیقت بدل جائے تو عموم بلوی کے وقت ا س کے استعمال کی گنجائش ہوتی ہے؛ اور جلاٹین میں آج کل عموم بلوی ہے لہٰذا ان حضراتِ علماء کے نزدیک جلاٹین پر مشتمل اشیائے خوردنی کے استعمال کی گنجائش ہوگی؛ جب کہ دیگر بعض علماء انقلاب ماہیت کے قائل نہیں ہیں؛ اس لئے وہ اسے ناجائز کہتے ہیں، بہرحال آپ کوشش کریں کہ غیر مذبوحہ یا حرام جانور کی ہڈی وغیرہ سے تیارشدہ جلاٹین پر مشتمل اشیائے خوردنی سے بچیں؛ کیونکہ مشتبہ چیز سے بھی بچنا چاہئے۔



”جلاٹین“ کے سلسلے میں بعض فتاوی ”چند اہم عصری مسائل“ اور فتاوی عثمانی کی چوتھی جلد میں بھی ہیں، وہاں ملاحظہ کرسکتے ہیں، اول الذکر کتاب دارالعلوم دیوبند سے شائع شدہ ہے، اور دارالعلوم کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات