متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 161516

حضرت، ہمارے محلہ میں ایک آدمی ہے جو دکھنے میں عورت ہے لیکن سامنے کا حصہ مردانہ ہے نیز مردانہ جیسا کوئی احساس نہیں ہے ۔ اب وہ سرجری کراکر عورت بننا چاہتاہے ،کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے؟

Published on: Jul 5, 2018

جواب # 161516

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1189-1133/L=10/1439



اللہ تعالی نے جس کو جس حالت میں پیدا کیا اس کو چاہئے کہ اسی حالت پر راضی رہے، یہی تقدیر پر ایمان لانے کا تقاضہ ہے۔ اور تبدیل جنس شرعاً ناجائز اور حرام ہے، بلکہ یہ فیصلہ خداوند سے صریح عدول ہے؛ لہٰذا اس کی قطعا اجازت نہیں ہے۔ عن ابن عباس - رضی اللہ عنہ - قال: لعن النبي صلی اللہ علیہ وسلم المتشبہین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال۔ (صحیح البخاری: ۲/۸۷۴)



(۲) قال علیہ السلام: فمن رضي فلہ الرضا ومن سخط فلہ السخط۔



(۳) عن عثمان بن مظعون - رضی اللہ عنہ - أنہ قال: یا رسول اللہ ! إنی رجل تشق علیِّ العزبة في المغازي فتأذن لی فی الخصاء، فأختصي؟ قال: لا ولکن علیک بالصیام فإنہا مخفرة ۔ وعن سعد بن وقاص - رضی اللہ عنہ - قال: رد سول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - علی عثمان بن مظعون التبتل ولو أذن لہ لاختصینا ۔ (متفق علیہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات