متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 161474

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ۱)تاجر گورنمنٹ کو مختلف ٹیکس ادا کرتا ہے ،سیل ٹیکس،اِنکم ٹیکس،سروس ٹیکس وغیرہ،یعنی جو منافع ملتا ہے ،اس میں کچھ فیصد رقم بطور ٹیکس گورنمنٹ کو دینا پڑتا ہے ،اس لیے زیادہ منافع ملنے کے باوجود بھی کم نفع دکھاتا ہے ، تاکہ ٹیکس کم ہو،جب کہ گورنمنٹ کی نظر میں ایسا کرنا جرم ہے ۔
۲)ٹیکس کم کرنے کے لیے مصنوعی بِل کی ضرورت پڑتی ہے ،یعنی اس مصنوعی بل سے کوئی بھی چیز خریدو فروخت نہیں کرنا پڑتا،بلکہ ٹیکس سے بچنے کے لیے کوئی چیز کا صرف نام ڈال کر دکھانا پڑتا ہے کہ یہ چیز خریدا گیا ہے ،کیا اس طرح کرنا درست ہے ؟
۳)اس طرح کا مصنوعی بل بناکر بیچنا اور اس پر کمیشن یعنی(سروس چارجس) لینا جائز ہے ؟ براہ کرم جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔

Published on: May 27, 2018

جواب # 161474

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:950-813/N=9/1439



(۱- ۳): انکم ٹیکس، سیل ٹیکس وغیرہ شریعت کی نظر میں ناواجبی ٹیکس ہیں، ان ٹیکسس میں سرکاری بینک کا سود بھرنا جائز ہے اور اپنی گاڑھی کمائی بچانے کے لیے مصنوعی بل بنوانے، بنانے اور اس پر کمیشن لینے کا مسئلہ کسی مقامی معتبر ومستند مفتی سے زبانی طور پر سمجھ لیں۔اور جن ٹیکسس کے عوض ٹیکس دینے والے کو واقعی طور پر کوئی فائدہ ملتا ہے اور وہ ٹیکس ان فوائد کے عوض میں وصول کیا جاتا ہے، جیسے: ہاوٴس ٹیکس، بل بجلی وغیرہ، ان میں سرکاری بینک کا سود بھرنا جائز نہیں۔



وأکثر النوائب في زماننا بطریق الظلم فمن تمکن من دفعہ عن نفسہ فھو خیر لہ (رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع وغیرہ، ۹: ۶۰۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، الکذب مباح لإحیاء حقہ ودفع الظلم عن نفسہ الخ (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ، فصل فی البیع وغیرہ، ۹: ۶۱۲)، وإن أمکن التوصل إلیہ بالکذب وحدہ فمباح إن أبیح تحصیل ذلک المقصود، وواجب إن وجب تحصیلہ الخ (رد المحتار، ۹: ۶۱۲، عن تبیین المحارم)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات