متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 161386

محترم مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ ایک آدمی نے ایک غیر ذی روح کی تصویر والا ویڈیو بنا کر اس کو نیٹ پر ڈال دیا، اب اس نے اس ویڈیو سے استفادہ کرنے کے لئے ایک شرط رکھی ہے کہ جو آدمی ۰۵۳ روپئے ویڈیو والے کے اکاؤنٹ میں ڈالے گا وہی استفادہ کر سکے گا اور اس ویڈیو کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی قطعا اجازت نہیں،اب ایک چالاک آدمی اس کو ڈاؤن لوڈ کرکے دوسروں کو بیچتا ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح ڈاؤن لوڈ کرنا اور اس سے خریدنا جائز ہے ؟

Published on: May 20, 2018

جواب # 161386

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1076-900/sd=9/1439



اگر کسی شخص نے غیر ذی روح تصویر والی ویڈیو نیٹ پر اپلوڈ کی ہے اور یہ وضاحت کر رکھی ہے کہ اُس ویڈیو کو وہی شخص دیکھ سکتا ہے جو ۳۵۰روپے ویڈیو والے کے اکاوٴنٹ میں ڈالے ، تو کسی شخص کا اِس ویڈیو کو ڈاوٴن لوڈ کر کے استفادہ کرنے کی تو گنجائش ہے ؛ لیکن دوسرے کو بیچنا جائز نہیں ہے ؛ اس لیے کہ آج کل ویڈیوز وغیرہ بغیر کسی معاوضہ کے ڈاوٴن لوڈ کرنے میں عرفا اجازت پائی جاتی ہے ، اس پر کوئی قانونی گرفت بھی نہیں کی جاتی؛ البتہ چوری سے ڈاوٴن لوڈ کر کے آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات