متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 161384

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ اگر کسی شخص کو بینک میں سیونگ اکاؤنٹ ہو، اور اس نے ملنے والی سود کی رقم کو علیحدہ کرکے رکھا ہو تاکہ وہ علیحدہ شدہ رقم غریبوں کو بغیر نیتِ ثواب دی جائے ، لیکن اس دوران کھاتے دار کو کوئی ایسی مجبوری درپیش ہو کہ نوبت اُدھار لینے پر آگئی، تو کیا کھاتہ دار سود کی اس رقم سے بلا واسطہ اُدھار اٹھا سکتا ہے یا بالواسطہ کسی قرض دار کے لئے وقتی طور قرضہ چکانے کی غرض سے رقم اٹھانے کی کوئی گنجائش ہے ؟

Published on: Jun 11, 2018

جواب # 161384

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1075-959/sd=9/1439



جی نہیں ! صورت مسئولہ میں جب کہ کھاتہ دار نے سود کی رقم بینک سے نکال کر الگ کرکے رکھ رکھی ہے اور اُس کے اکاوٴنٹ میں رقم نہیں بچی ہے ، تو اُس کے لیے سودی رقم بطور قرض خود استعمال کرنا یا اُس رقم سے دوسرے کا قرض اداء کرنا جائز نہیں ہے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات