متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 161337

میرا سوال ہے کہ کیا مسلمانوں کو نوکری حاصل کرنے کے لئے کسی بھی طرح کی گھوس یا رشوت دینا جائز ہے؟ اگر گھوس دے کر نوکری کرتا ہے کوئی تو کیا اسے ملنے والی تنخواہ جائز ہوگی یا حرام ہوگی؟ اگر کسی کو نوکری نہ مل رہی ہو تو مجبوراً کہیں گھوس دینا پڑے تو کیا اس صورت میں نوکری سے ملنے والی تنخواہ حلال ہوگی یا پھر حرام ہوگی؟
گذارش ہے کہ میرے سوالوں کا جواب تفصیل سے بتائیں۔ شکریہ

Published on: May 20, 2018

جواب # 161337

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:979-898/M=9/1439



رشوت (گھوس) لینے والے اور دینے والے پر حدیث میں لعنت آئی ہے اس لیے ہرمسلمان کو اس ملعون فعل سے احتراز لازم ہے، اگر کوئی شخص رشوت دے کر نوکری حاصل کرلیتا ہے تو اس کی آمدنی پر حرام ہونے کا حکم نہیں تنخواہ حلال رہے گی بشرطیکہ نوکری جائز کام کی ہو اور وہ پوری دیانت داری سے کام انجام دیتا ہو؛ لیکن بغیر شرعی مجبوری کے رشوت دینے کا گناہ ہوگا، ہاں اگر اپنا جائز حق رشوت دیئے بغیر وصول نہ ہو تو دینے کی گنجائش ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات