متفرقات - حلال و حرام

Pakistan

سوال # 161083

اکثر بینک کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کو کچھ کمپنیوں کے پراڈکٹ مثلا" موٹرسائکل ۔اے سی وغیرہ 12 مہینوں تک 0% مارک اپ پر دیتے ہیں۔ان کی قیمت مارکیٹ سے تھوڑی سی زیادہ ھوتی ہے ۔12 مہینوں سے زیادہ ٹائم پر وہ 3سے 5% زیادہ لیتے ہیں اور وہ پروسیسنگ فیس بھی لیتے ہیں۔ کچھ علماء کا خیال ہے کہ اگر میں 12 ماہ تک بغیر انٹرسٹ (سود)کے بھی لوں۔اور قسطیں بھی وقت پر ادا کرتا رہوں۔ تو بھی ٹھیک نہیں کیونکہ تم نے وہ پیپر سا ئن کیا جس میں 12 ماہ سے زیادہ پر سود کا شرط ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ سودی بینک ہے ۔ جن سے معاملہ کرنا ٹھیک نہیں۔ حالانکہ ہمارے باقی لین دین بھی انہی بینکوں سے ہے ۔ مہربانی کرکے وضاحت فرماویں۔

Published on: May 30, 2018

جواب # 161083

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1016-963/H=9/1439



”چند اہم عصری مسائل“ (کتاب) ج۲ص۲۸۷میں ہے ”کاروباری ضرورت یا مالی تحفظ کی غرض سے کریڈٹ کارڈ لینے اور اس کے استعمال کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ پہلے اکاوٴنٹ کھلوالیا جائے تاکہ کارڈ جاری کرنے والا ادارہ اپنا قرض وہاں سے وصول کرلے اور اگر اکاوٴنٹ سے فی الحال قرضہ منہا کرنے کا انتظام نہ ہو تو اس کی انتہائی احتیاط برتی جائے کہ جاری کردہ بلوں کی قیمت مقررہ مدت کے اندر ادا ء کردی جائے تاکہ ان پر سود لاگو نہ ہوسکے کیونکہ سود کا اداء کرنا حرام ہے یہ کارڈ غیر اسلامی بینک سے بھی لے سکتے ہیں“ اور کچھ علماء کا یہ خیال کہ سود اداء نہ کرنے کی مدت میں اداء کردینے کے باوجود یہ معاملہ ٹھیک نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ غیر شرعی معاہدہ اور شرط جو لگائی جاتی ہے وہ شرعاً باطل اور لغو ہے اس کی وجہ سے سود لاگو ہونے سے پہلے تک کا معاملہ باطل نہ ہوگا بلکہ وہ درست رہے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات