متفرقات - حلال و حرام

India

سوال # 161005

کیا فرماتے مفتان کرام اس مسئلہ میں کہ میں نے زید سے معاہد کیا جو رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں دونوں میں معادہ یہ طئے ہو کہ جو بھی رقم میں لگاؤں گا اس کے دو گنا ہ منا فع کی شکل میں ملے گا۔
دریافت طلب بات یہ ہے کہ یہ معاہد شرعی نقطہ سے صحیح ہے یا یہ معاملہ سود کی تعریف میں آتا ہے ؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرما کر۔ ممنون فرمائیں۔

Published on: May 10, 2018

جواب # 161005

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1054-932/L=8/1439



شرکت میں متعین رقم کی شرط لگانا جائز نہیں اس سے شرکت فاسد ہوجاتی ہے اور بسا اوقات یہ سودی معاملہ بھی ہوجاتا ہے،شرکت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کل نفع سے فیصد کے اعتبار سے ہر شریک کے نفع کا تعین ہو مثلاًاگر سوروپے نفع کے ہوئے تو پچاس فیصد(پچاس روپے) فلاں شریک کے اور پچاس فیصد(پچاس روپے) فلاں کے ہوں گے ،آپسی رضامندی سے فیصد میں کمی بیشی بھی کرسکتے ہیں،اسی طرح نقصان کی صورت میں رأس المال کے اعتبار سے نقصان برداشت کرنا ضروری ہے،صرف نفع میں شریک ہونا اور نقصان نہ برداشت کرنا درست نہیں ،اگر شرکت کا معاملہ کرنا ہو تو مذکورہ بالا طریقے کے اعتبار سے شرکت کا معاملہ کیا جائے۔ولا یجوز الشرکة إذا شرط لأحدہما دراہم مسماة من الربح؛ لأنہ شرط یوجب انقطاع الشرکة فعساہ لا یخرج إلا قدر المسمی لأحدہما۔ (الہدایة / کتاب الشرکة ۲/۶۳۲مکتبہ بلال دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات